گفتم کہ مرگ عاشقان ، گفتا کہ درد ہجر من
گفتم کہ علاج زندگی، گفتا کہ دیدار منست
پوچھا کہ عاشق کیسے مرتے ہیں، کہا کہ میرےفراق میں
پوچھا کہ زندگی کا علاج کیا ہے،کہا کہ میرا دیدار ہے
کہانی محبت کی ہے مختصر
گیا دل سے پھر وہ نہ آیا ادھر
کبھی کوئی تھا میری راہوں کا اک ہمسفر
اسلام و علیکم
صبح بخیر
وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے
نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں
وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
اک عمر گزار آئے تو محسوس ہوا ہے
اس طرح تو جینے کا ارادہ ہی نہیں تھا
ویسے ہی تمہیں وہم ہے افلاک نشیں ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو ہم خاک نشیں ہیں
یار قضاء ہو جائے
تو دکھ واجب ہو جاتے ہیں
اوتھے عملاں دے ہوںنڑے نے نبھیڑے
کسے نئیں تیری ذات پچھنی
یہ ترکِ تعلق کا کیا تذکرہ ہے
تمہارے سوا کوئی اپنا نہیں ہے
اگر تم کہو تو میں خود کو بھللا دوں
تمہیں بھول جانے کی طاقت نہیں ہے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے ہیں چاکِ گریباں کئے ہوئے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے
وحدتِ عشق کا تقاضا ہے
ہر نظارے میں تو نظر آئے
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
اپنوں کے ہی کرم ہیں
غیروں کی کیا مجال
او ماہیا تیری خیر
ہوئے چاروں پہر
شالا ہور کچھ منگدا نہیں
لاکھ اس دل کو ہم نے سمجھایا
دل وہاں پھر بھی ہم کو لے آیا
Bahut si baatein hain tum ko kehni
Bahut si baatein hain hum ko kehni
Kabhi jo tanha milo kaheen tum
To baatein hum yeh tamaam karlen
سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ
ہم بھی مرید کچھ اسی سلسلے کے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain