کاش کوئی تو ایسا ہو
جو اندر سے باہر جیسا ہو
بربادیوں کا جائزہ لینے کے واسطے
وہ پوچھتے ہیں حال ہمارا کبھی کبھی
جب یقین ٹوٹتا ہے تو
سب سے پہلے زبان چپ ہوتی ہے
نصیب کا لکھا مل کے ہی رہتا ہے
کب؟ کہاں؟ کیسے؟ یہ میرا رب جانتا ہے
میری بے زباں آنکھوں سے گرے جو چند قطرے
جو سمجھ سکے تو آنسو نہ سمجھ سکے تو پانی
یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی
میری خیریت بھی پوچھی کسی اور کی زبانی
جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے
یہ بھی انداز گفتگو ہے کوئی
جب کرو دل دکھا کے بات کرو
یوں تو ہر شام جلاتے ہیں امیدوں کے چراغ
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
عشق کرنا ہے تو پھر چاکِ گریباں کر لے
ہوش والوں سے کہاں رقصِ جنوں ہوتا ہے
ایسا نہیں کہ میرے بلانے سے آ گیا
وہ رہ نہیں سکا تو بہانے سے آ گیا
ان فاصلوں کے پیچھے سب فیصلے تمہارے ہیں
اگر مگر اور کاش میں ہوں
میں خود بھی اپنی تلاش میں ہوں
مَنتیں پوری ہوں نہ ہوں
در نہیں بدلے جاتے
خاص کہاں تھا وہ
خاص بنا دیا تھا ہم نے اسے
کلی کو کِھل کے مرجھانا پڑا
تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
تیری رحمتوں کا دریا سرعام چل رہا ہے
مجھے بھیک مل رہی ہے میرا کام چل رہا ہے
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشا
کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain