یہ تو اب جا کے جنوں میں نے اتارا سَر سے ورنہ دَر کھولنا آتا ہے مجھے ٹھوکر سے کس کو معلوم کہ ہم کتنے بھرے بیٹھے ہیں کس نے دیکھا ہے چٹانوں کا خلا اندر سے منظرِ شامِ غریباں ہے دَم ِرخصتِ خواب تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے ! یک بَہ یک ماں کی دعاؤں نے قدم روک لئے بد دعا باپ کی لے کر ہی چلا تھا گھر سے بعض اوقات خوشی چُھو کے گذر جاتی ہے رہ بھی جاتی ہے کبھی لاٹری اک نمبر سے بے تکلُّف ہے بہُت مجھ سے اداسی میری مسکراؤں تو پکڑتی ہے مجھے کالر سے اظہَــــر فـــراغؔ #حمزہ
میری صَدا ھَوا میں ٫ بہت دُور تک گئی پَر میں بُلا رھا تھا جِسے ٫ بے خبر رَھا اُس آخری نَظر میں ٫ عَجب دَرد تھا مُنیرؔ جانے کا اُس کے رَنج ٫ مُجھے عُمر بھر رھا۔ #tharkimashoomsha
مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم یہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ہے تو کیوں ہے تجھے کھو کے سوچتا ہوں مرے دامن طلب میں کوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر بہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبار ساجد یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ہے تو کیوں ہے۔۔۔۔!
سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود جینا تو ہے ناں ذہنی دباؤ کے باوجود کیا جانے کب جلال میں آ جائے سیلِ آب دریا سے ڈر رہی ہوں میں ناؤ کے باوجود پھر قہقہہ لگانا پڑا زندگی کے ساتھ آواز میں نمی کے رچاؤ کے باوجود اک شام لوٹ آیا پرندہ شجر کے پاس آوارگی سے خوب لگاؤ کے باوجود دنیا میں اُس سے بڑھ کے کوئی بھی نہیں عزیز اوروں کی سمت اُس کے جھکاؤ کے باوجود کومل جوئیہ
سینے میں ہجرِ یار کے ___ گھاؤ کے باوجود جینا تو ہے ناں __ ذہنی دباؤ کے باوجود ___! دنیا میں اُس سے بڑھ کے کوئی بھی نہیں عزیز اوروں کی سمت اُس کے __ جھکاؤ کے باوجود _! 💔
تم نے دکھ دینے میں تھوڑی بھی رعایت نہیں کی ہم بھی پتھر تھے کبھی تم سے شکایت نہیں کی جیسے جی کھول کے تم محوِ جفا ہم پہ رہے ایسی دنیا میں کسی نے بھی سخاوت نہیں کی
اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے ھم لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے آنسو بھی ہیں آنکھوں میں دعائیں بھی ہیں لب پر بگڑے ہوئے حالات سنور کیوں نہیں جاتے
وہ حُسن دسترس کا نہیں، خود کو مت تھکا شوقین ہو کے دیکھ مگر جستجو نہ کر تُو اُس کو جانتا ہے؟ نہیں نا؟ تو باز آ میں کہہ رہا ہوں مجھ سے میری گفتگو نہ کر🥀🔥