اک تری آنکھ نہیں ہوتی مرے حال پر نم ورنہ
دیکھ کر مجھے گھر کے در و دیوار روتے ہیں
پوچھنا تھا انہیں حشر میں کیا اجر ملے گا؟
اس دنیا میں جو لوگ , پروردگار روتے ہیں💔
#tharkimashoomsha
ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے
بس آپ کا وقار نہیں جانا چاہئیے
اس خوش بدن نے پیار سے دو پل چھوئے تھے ہاتھ
کچھ سال یہ خمار نہیں جانا چاہئیے
میں خود ہدف بنی ہوں کہ اس بدگمان کا
خالی کوئی بھی وار نہیں جانا چاہئیے
شائد وہ شخص حال کسی روز پوچھ لے
مالک ! ابھی بخار نہیں جانا چاہئیے
اک بار کوئی آپ کو جب مسترد کرے
اس سمت بار بار نہیں جانا چاہئیے
خواہش وصال کی ہو طلب ہو جنون ہو
سب جائے ، اعتبار نہیں جانا چاہئیے
کومل جوئیہ
#tharkimashoomsha
تبصرہ کرتے ہیں کیا اہل تفکر اس پر۔۔!
صبر کے پھل کا اگر ذائقہ کڑوا نکلے؟؟
تِرے خیال کی زد میں کئی برس تک ہم!
دِیوانہ وار بھٹکتے رہے ہیں دُنیا میں۔۔۔
خُدا نصیب کرے اُن کو دائمی خوشیاں
عدم وہ لوگ جو ہم کو اداس رکھتے ہیں
تُو ہم جیسوں کو چُنتی ہے ہجوم تشنگاں سے
یہی تو بس تری باریک بینی ھے' محبت ...
خوشی سے کون کرتا ہے غموں کی پرورش عاصی
کسے ہے شوق لوگو ! درد کے سانچے میں ڈھلنے کا
پُچھن والا,حال ای کوئی نئیں
کلّا واں, میرے نال ای کوئی نئیں
ویکھ تے کنگھی ویچن والیا
میرے سر تے وال ای کوئی نئیں
دل کیویں ترے ہتھ پھڑانواں
تیرے کول سمبھال ای کوئی نئیں
ویکھ کے اکھیاں ہس ہس بولے
ایہہ جیا حسن جمال ای کوئی نئیں
سعدی ہر واری او تد جِت جاندا
میری کھیڈے چال ای کوئی نئیں
#tharkimashoomsha
کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ھے کوئی
دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ھے کوئی
🖤💯🥀
دُکھ فسانہ نہیں کہ تُجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تُجھ سے کہیں
آج تک اپنی بےکلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تُجھ سے کہیں
بے طرح حالِ دل ہے اور تُجھ سے
دوستانہ نہیں کہ تُجھ سے کہیں
ایک تُو حرفِ آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تُجھ سے کہیں
قاصدا ہم فقیر لوگوں کا
اِک ٹھکانہ نہیں کہ تُجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اُس گلی میں فراز
آنا جانا نہیں کے تجھ سے کہیں
🖤
احمد فراز
#tharkimashoomsha
پھر سے بنا اِسے یہ مرا زائچہ نہیں
اِس پر کہیں نشان ِ جگر سوختہ نہیں
اِک خوف سا ہے دل میں مگر بے وجہ نہیں
میں جس کے ساتھ ہوں وہ مرا قافلہ نہیں
چھوڑا ہے جس نے راہ میں اُس سے گِلہ نہیں
مُڑ مُڑ کے دیکھنے کا بھی اب حوصلہ نہیں
گھر کا طواف کرتی ہی رہتی ہیں حسرتیں
کیسے کہوں کہ اِن سے مرا واسطہ نہیں
کُھلتی ہیں اس گلی میں یہ زنداں کی کھڑکیاں
تازہ ہوا سے جِس کا کوئی رابطہ نہیں
ایک دوسرے سے اپنا پتہ پوچھتے ہیں لوگ
اِس شہر میں اگرچہ کوئی لاپتہ نہیں
ہم وہ سفر نصیب ہیں جن کے نصیب میں
منزل نہیں کہیں تو کہیں راستہ نہیں
✍️شاہین مفتی 🍂
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
امید یار نظر کا مزاج درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
فیض احمد فیض
پہنچے جو سر عرش تو نادار بہت تھے
دنیا کی محبت میں گرفتار بہت تھے
گھر ڈوب گیا اور انہیں آواز نہیں دی
حالانکہ کہ میرے سلسلے اُس پار بہت تھے
چھت پڑنے کا وقت آیا تو کوئی نہیں آیا
دیوار گرانے کو رضاکار بہت تھے
گھر تیرا دکھائی تو دیا دور سے لیکن
رستے تری بستی کے پر اسرار بہت تھے
ہنستی ہوئی آنکھوں کا نگر کہتے رہے ہم
جس شہر میں نوحے پس دیوار بہت تھے
یہ ںے رخی اک روز تو مقسوم تھی اپنی
ہم تیری توجہ کے طلبگار بہت تھے
آسائش دنیا کا فسوں اپنی جگہ ہے
اس سکھ میں مگر روح کے آزار بہت تھے
پروین شاکر
ہم بڑی دُور سے آئے ہیں تُمہاری خاطر
دِل کے ارماں بھی لائے ہیں ، تُمہاری خاطر
ایسا اِک سنگ جو تالیفِ رہِ منزل ہو
منزلیں ڈھونڈ کے لائے ہیں تُمہاری خاطر
کِتنی نا کام اُمیدوں کے دِیئے پچھلے پہر
ہم نے دریا میں بہائے ہیں تُمہاری خاطر
عہدِ روشن کے سُخنور نہ بُھلائیں گے کبھی
ہم نے وُہ سَحر جگائے ہیں ، تُمہاری خاطر
ہم نہ چاہیں گے کبھی تختِ جم و خسرو کے
ہم نے ارمان لُٹائے ہیں ،،، تُمہاری خاطر
ہم وہاں تھے کہ جہاں ساغرؔ و ساقی تھے مدام
دوستوں ! ،،، لوٹ کے آئے ہیں تُمہاری خاطر
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
تِرے خیال کی زد میں کئی برس تک ہم!
دِیوانہ وار بھٹکتے رہے ہیں دُنیا میں۔۔۔
اے خدا! جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
اُس کی آنکھوں کو مرے زخم کی گہرائی دے
تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو
ان کو پتھر نہیں دیتا ہے تو بینائی دے
جس کے ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے
یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر، یا مجھے گویائی دے
اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشمِ گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے
جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں انھیں خلعتِ رسوائی دے
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فرازؔ
وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
احمد فرازؔ
#tharkimashoomsha
تمہــــارے پاس سلیقے ہیــں سب زمانے کــے
ہمــــارے پاس محبت ہے اور کچھ بھــی نہیں
اعــــزل شہید
#hijrzada
خدا کے بعد میرا آخری سہارا تھا
وہ جس کو میں نے بھری بزم میں پکارا تھا
بس ایک موڑ غلط مڑ گئے تھے جیون میں
اور اس کے بعد خسارا تھا، بس خسارا تھا
فلک نے تاک کر بجلی گرائی تھی اس پر
اسی شجر پہ جہاں آشیاں ہمارا تھا
اس ایک پل کی اداسی نہیں گئی اب تک
وہ ایک پل جو تیرے ہجر میں گزارا تھا
کسی نے یونہی جو وعدہ کیا تھا آنے کا
تو راستوں کو دل و جان سے سنوارا تھا
نظر چرا کے وہ گزرے تو دل نے جان لیا
یہی تو اس سے جدائی کا استعارہ تھا
فرزانہ ساجد
نِکلے صدف کی آنکھ سے موتی مَرے ہُوئے
پُھوٹے ہیں چاندنی سے شگُوفے جلے ہُوئے
ہے اہتمامِ گِریہ و ماتم چَمن چَمن
رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہُوئے
ہر ایک سنگِ میل ہے اب ننگِ رہگزر
ہیں رہبروں کی عقل پر پتّھر پڑے ہُوئے
بے وجہ تو نہیں ہیں چَمن کی تباہیاں
کُچھ باغباں ہیں برق و شرر سے مِلے ہُوئے
اب مَیکدے میں بھی نہیں کُچھ اہتمامِ کیف
ویران ہیں شعُور ، تو دِل ہیں بُجھے ہُوئے
ساغرؔ ، یہ وارداتِ سُخن بھی عجیب ہے
نغمہ طرازِ شوق ہُوں ، لب ہیں سِلے ہُوئے
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
مجموعۂ کلام : (لوحِ جنوں)
سبھی کو حسن بھاتا ہے، نہیں سیرت سے کچھ مطلب
زمانہ جھوٹ کہتا ہے کہ صورت ____ کچھ نہیں ہوتی
ہمیں یوں بیچ رستے میں کوئی جب چھوڑ جاتا ہے
تو اس تکلیف کے آگے قیامت کچھ نہیں ہوتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain