تجھ کو حالات کا کچھ علم نہیں ہے اے شخص
یاد کچھ رہتا نہیں مجھ کو ترے نام کے بعد ۔
امن اقبال ۔ 🤍
#ھادی 🥀
جس سے مدت سے رابطہ ہی نہیں
آج تک اس سے رابطے میں ہیں
مسکرانے کی بات مت کیجئیے
ہم ابھی غم کے مرحلے میں ہیں
ہم تو خود بھی نہیں ہیں اپنے ساتھ
آپ تو خیر قافلے میں ہیں
انعم ظامی
تو تسلی سے چلا تیشہ رعایت مت کر
یوں سمجھ، دل نہیں دیوار مرے سینے میں ہے
کیا کروں اسکا مجھے اتنا بتاتے جائیں
آپ کی چیز جو سرکار مرے سینے میں ہے
لوگ کہتے ہیں کہ آسیب ہے دیواروں پر
میں یہ کہتا ہوں نہیں یار مرے سینے میں ہے ♡
نعمان شفیق
پھـر سـے عـطا ھوئی تـو جئیں گـے حسب آرزو
پہلی بار ہم زندگی کو حسبِ ارادہ نہ جی سکے
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﭘﮑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﭗ ﮐﺎ ﺗﺮﯼ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﺳﮯ
ﺭﻭﺡ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ
ﯾﻌﻨﯽ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ،
ﺟﯿﺴﮯﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺑﻦ ﮐﮩﮯ، ﺑﻦ ﺳﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭻ
ﻋﮩﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ..!!!
🌹عشق💔 ممنوع🌹
مُکر جائے محبت سے اگر کوئی تو چُپ رہنا
تماشہ تو نہیں کرتے، کبھی کڑوا جو پھل نکلے
خُدا کی دین ہوتی ہے، جسے چاہے، عَطا کر دے
وفا رستہ نہیں ایسا کہ جس پر جو بھی چل نکلے
تم نے چھوڑا تو کسی سمت نہ دیکھا میں نے🍁
یونہی جیتی رہی خود کو میں تمہارا کر کے🖤
#
بڑی عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی
نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے
🥀
یہ سارے رنگ ترے لمس کی عنایت ہیں
مری یہ شوخی ترے ربط کی بدولت ہے
#HIJRZADI
میں بجھ گیا تو کہیں دور جا کے رکھ دینا
مرے دھویں سے کوئی دوسرا خراب نہ ہو
آسیب جفت سے ہوئے مانوس یوں کہ ہم۔!
ہر دل سے اتر جاتے ہیں چار دن کے بعد 🖤🥀🖤
تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے واسطے
ہمیں رقیب منانا پڑے گا ۔۔۔! حیرت ہے🍁
میں ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہا دواؤں سے.
تمہیں بھی یار بتانا پڑے گا۔۔!حیرت ہے🥀
ابراہیم اشکؔ
روبرو ان کے کوئی حرف ادا کیا کرتے
درد تو ہم کو چھپانا تھا صدا کیا کرتے
بے وفائی بھی وفا ہی کی طرح کی اس نے
ایسے انسان سے کرتے تو گلہ کیا کرتے
چھن گئیں ہاتھ اٹھانے سے دعائیں مہنگی
حوصلہ پھر وہ دعاؤں کا بھلا کیا کرتے
کچھ تو آتے رہے امید کے جھونکے ورنہ
اتنا شاداب مجھے آب و ہوا کیا کرتے
اپنے معیار سے گرنا نہیں آیا ہم کو
اپنے کردار کو ہم اس سے سوا کیا کرتے
جب بھی آیا کوئی اچھا ہی خیال آیا ہے
اشکؔ ہم جیسے زمانے کا برا کیا کرتے
ہنستا ہوں تیرے بغیر بھی کتنے غرور سے
اے امیر شہر دیکھ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں
میں نے یک طرفہ محبت بھی نباہی اُس سے
یعنی ایک ہاتھ سے تالی کو بجایا برسوں ..
یاد آجاتا ہے اک دوست نما راز فروش
ہم نیا دوست بناتے ہوئے رہ جاتے ہیں
بینائیوں کو کھا گئیں دیمک کی ٹولیاں، 🍁
آنکھوں سے آج بھی تیرا چہرہ نہیں گیا🖤
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں
نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں
کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں
کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں
انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں
خلوص درد محبت وفا رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں
تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
کشمیری لال ذاکر
تو نے دیکھا کبھی مریض ہجر
رنگ چہرے کا ذرد ہوتا ہے
آپ کہتے ہیں شاعری جس کو
وہ میرے دل کا درد ہوتا ہے
معین علی
کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر ✍️
ان اشکوں کو پانی کہنا بھول نہیں نادانی ہے،
تن من میں جو آگ لگا دے یہ تو ایسا پانی ہے،،
ہجر کی گھڑیاں دیکھ چکے ہیں موت کا ہم کو خوف نہیں،
یہ صورت تو دیکھی بھالی ہے جانی پہچانی ہے،،
کیسے تم سے عشق ہوا تھا کیا کیا ہم پر بیت رہی ہے،
سن لو تو سچا افسانہ ورنہ ایک کہانی ہے،،
مفلس بندوں پر مت ہنسنا دھن دولت کے پہرے دارو،
یہ دنیا ہے اس دنیا کی ہر شے آنی جانی ہے،،
شیخ و برہمن زاہد و واعظ بوڑھے کھوسٹ کیا جانیں،
بھول بھی ہو جاتی ہے اس میں اس کا نام جوانی ہے،،
دکھ سکھ سہنا اور خوش رہنا عشق میں لازم ہے یہ سحر،
دل والے ہو مت گھبراؤ یہ تو ریت پرانی ہے،،!!
انتخاب و کلیکشن: شہزاد قریشی 🫡
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain