کرو گے کیا ؟ جو کبھی سچ کا باب کھولا گیا تمہارے شہر میں تو اتنا جھوٹ بولا گیا کہاں سے قتل کے سارے ثبوت ملنے تھے کہ قاتلوں کو تو ؛ میزانِ زر میں تولا گیا یہ آگ لگتا ھے اب آسماں کو چھو لے گی جو ابتدا بنا اس کی ؛ کہاں وہ شعلہ گیا؟ مجھے یقیں ھے ؛ تری دھجیاں اڑیں گی یہاں جو تیرے واسطے در واپسی کا کھولا گیا کوئی سنے نہ سنے ؛ بات میں سناؤں گا میں اتنا بولوں گا جتنا بھی مجھ سے بولا گیا محمود غزنی
خود کو مغالطے میں رکھا ہے تمام عمر.!! دنیا تمھارے ساتھ تو دھوکا نہیں کیا.!! لوگوں کو جانے مجھ سے شکایت رہی ہے کیوں.!! میں نے تو اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا.!!🥀🖤
یوں ہی تنہائی میں ہم دل کو سزا دیتے ہیں نام لکھتے ہیں تیرا، لکھ کے مٹا دیتے ہیں جب بھی ناکامِ محبت کا کوئی ذکر کرے لوگ ہنستے ہیں،میرا نام بتا دیتے ہیں اب خوشی کی کوئی ترکیب نہ سوچے دنیا اب یہ عالم ہے کچھ غم بھی مزہ دیتے ہیں اب تسلی نہیں دی جاتی مریضِ غم کو دیکھنے والے بھی مرنے کی دعا دیتے ہیں کیا ضرورت ہے رفیق برق کو یہ زحمت ہو لاؤ ہم خود ہی نشیمن کو جلا دیتے ہیں ... ~نام لکھتے ہیں تیرا، لکھ کے مٹا دیتے ہیں ۔۔۔!!!~ 🌹عشق💔 ممنوع🌹
ہر وقت میسر کی بھی وقعت نہیں رہتی ہر وقت محبت کا بھی نقصان یہی ہے اپنوں کے بدلتے ہوئے اندازِ تکلّم اے دوست بُرے وقت کی پہچان یہی ہے فیصل محمود #HIJRZADI
دیوار پہ لرزہ ھے ؛ تو دَر کانپ رہا ھے بچھڑے ہو تو اُجڑا ہُوا گھر کانپ رہا ھے تم آنکھ کی پتلی میں چُھپے سچ کو بھی دیکھو مجرم تو نہیں ھے ؛ وہ اگر کانپ رہا ھے۔۔۔۔۔۔! ویران ھے اس درجہ ترے بعد مرا دِل۔۔؛ اِس شہر میں آتے ہُوئے ڈر کانپ رہا ھے اِک مَیں کہ جُدائی نے مجھے کر دیا ساکت اِک تُو ھے کہ صدمے سے اُدھر کانپ رہا ھے آنگن کو پلٹ جاؤں نہ مَیں چھوڑ کے اُس کو صحرا میں مرا خوابِ سفر کانپ رہا ھے یا تو مری بینائی پہ ھے خوف مُسلط یا نہر کے پانی میں شجر کانپ رہا ھے بُجھنے نہیں دُوں گا مَیں کبھی ہجر کے صدمے دِل میں تری یادوں کا شرر کانپ رہا ھے۔۔! وصی شاہ
حرفِ غلط نہ تھا مجھے سمجھا گیا غلط لکھا گیا غلط ؛ کبھی بولا گیا غلط۔۔۔..! میں بھی غلط نہ تھا میری باتیں غلط نہ تھیں مجھ کو ؛ میرے کلام کو ؛ جانچا گیا غلط میزان ٹھیک تھا ؛ پلڑے بھی تھے درست لیکن یہ کون دیکھے ؟ کہ تولا گیا غلط۔۔! مجھ میں نہیں تھے عیب کسوٹی میں عیب تھے میرا تھا یہ قصور ؛ مجھے پرکھا گیا غلط۔۔۔۔!! طوفاں کے بعد ؛ ابل تدبر کو ھے یہ فکر ساحل کا تھا قصور ؛ کہ دریا گیا غلط افراد ہیں غلط ؛ یا غلط ہیں تصورات یا اس معاشرے کو ہی ڈھالا گیا غلط عبداللہ جاوید .
شام غم تجھ سے جو ڈر جاتے ہیں شب گزر جائے تو گھر جاتے ہیں وقت رخصت انہیں رخصت کرنے ہم بھی تا حد نظر جاتے ہیں یوں نمایاں ہیں تیرے کوچے میں ہم جھکائے ہوے سر جاتے ہیں اب انا کا بھی ہمیں پاس نہیں وہ بلاتے نہیں پر جاتے ہیں وقت سے پوچھ رہا ہے کوئی زخم کیا واقعی بهر جاتے ہیں زندگی تیرے تعاقب میں ہم اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں مجھ کو تنقید بھلی لگتی ہے آپ تو حد سے گزر جاتے ہیں طاہر فراز
_اس نے سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا❤🩹_ _چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد میں گھر بدلا🥀_ _میں اسکے بارے میں لوگوں سے کہتا تھا🖤_ _میرا نام بدل دینا اگر وہ شخص بدلا💔_