Damadam.pk
Gghhhko's posts | Damadam

Gghhhko's posts:

Gghhhko
 

رات کو مسمار ہوئے، دن کو تعمیر ہوئے۔۔!!
خواب ہی خواب فقط، روح کی جاگیر ہوئے۔۔!!
عمر بھر لکھتے رہے، پھر بھی ورق ساده رہا۔۔!!
جانے کیا لفظ تھے، جو ہم سے نا تحریر ہوئے۔۔!!
یہ الگ دکھ ہے کے، ہاں تیرے دکھوں سے آزاد۔۔!!
یہ الگ قید ہے ہم، کیوں نا زنجیر ہوئے۔۔!!
دیده و دل میں تیرے، عکس کی تشکیل سے ہم۔۔!!
دھول سے پھول ہوئے، رنگ سے تصویر ہوئے۔۔!!
کچھ نہیں یاد گزشتہ شب کی محفل میں فراز۔۔!!
ہم جدا کس سے ہوئے، کس سے بغل گیر ہوئے۔۔!!
✍️ احمد فراز🍁
🍁

Gghhhko
 

ن م راشد
حسرت انتظار یار نہ پوچھ
ہائے وہ شدت انتظار نہ پوچھ
رنگ گلشن دم بہار نہ پوچھ
وحشت قلب بے قرار نہ پوچھ
صدمۂ عندلیب زار نہ پوچھ
تلخ انجامئ بہار نہ پوچھ
غیر پر لطف میں رہین ستم
مجھ سے آئین بزم یار نہ پوچھ
دے دیا درد مجھ کو دل کے عوض
ہائے لطف ستم شعار نہ پوچھ
پھر ہوئی یاد مے کشی تازہ
مستی ابر نو بہار نہ پوچھ
مجھ کو دھوکا ہے تار بستر کا
نا توانئ جسم یار نہ پوچھ
میں ہوں نا آشنائے وصل ہنوز
مجھ سے کیف وصال یار نہ پوچھ

Gghhhko
 

میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو
کرب تنہائی میں جینے کی دعا دو مجھ کو
فن تمہارا تو کسی اور سے منسوب ہوا
کوئی میری ہی غزل آ کر سنا دو مجھ کو
حال بے حال ہے تاریک ہے مستقبل بھی
بن پڑے تم سے تو ماضی مرا لا دو مجھ کو
آخری شمع ہوں میں بزم وفا کی لوگو
چاہے جلنے دو مجھے چاہے بجھا دو مجھ کو
خود کو رکھ کے میں کہیں بھول گئی ہوں شاید
تم مری ذات سے ایک بار ملا دو مجھ کو
نکہت افتخار

Gghhhko
 

خمار بارہ بنکوی
مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا
تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا
واعظ سلام لے کہ چلا مے کدے کو میں
فردوس گم شدہ کا پتا یاد آ گیا
برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی
اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا
مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ
کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا

Gghhhko
 

تم سے میں اتنی محبت جو کیا کرتا ہوں
اپنے ہی دل کے میں زخموں کو سیا کرتا ہوں
غمِ اُلفت میں تنہائی بھی نشہ دیتی ہے
بند کمرے میں یہ مہ، میں بھی پیا کرتا ہوں

Gghhhko
 

کس طرح لوگ بدلتے ہیں کبھی سوچا ہے
دل سے کیسے وہ نکلتے ہیں کبھی سوچا ہے
تجربہ کتنا انہیں ہوگا میاں دیکھو جو
ٹھوکریں کھا کے سنبھلتے ہیں کبھی سوچا ہے
آپ کے پیار میں دل ٹوٹ گیا ہو جن کا
یاد کر کر کے تڑپتے ہیں کبھی سوچا ہے
تو قدر دوست ہماری نہ کرے پھر بھی تجھے
جان سے بڑھ کے سمجھتے ہیں کبھی سوچا ہے
کیوں کسی غیر کو بدنام کروں میں اشنال
اپنے ہی اپنوں کو ڈستے ہیں کبھی سوچا ہے
اشنال سید

Gghhhko
 

ہَر لغزش ہر ہیجان مُسترد کیا جا سکتا ہے
ہر سارق ہر نگہباں مُسترد کیا جا سکتا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ سرمایۂ چین و قرار
کب کیسے اور کہاں مُسترد کیا جا سکتا ہے
پھول کھل جائیں جب ہتھیلی پہ تو پھر
زمیں کا ہر گلستاں مُسترد کیا جا سکتا ہے
تُو جو آ جائے مُیسر تا اَزل و اَبد تو پھر؟
عاصم یہ سارا جہاں مُسترد کیا جا سکتا ہے
✍️ عاصم حجازی

Gghhhko
 

ساری خوشیوں سے اجنبی ہو کر
اک ترے غم سے روشناس رہیں
آج جی ہے کہ تجھ کو یاد کریں
اور پھر دیر تک اداس رہیں

Gghhhko
 

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئی
مرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے
نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
- فیض احمد فیض

Gghhhko
 

میں دوبارہ کھل جاؤں گا اور ثابت كروں گا
کہ مرجھانا محض ایک فضول کہانی ہوتی ہے

Gghhhko
 

تُم بتـــؔـاؤ گے مُجھے آگ کـی حِــدَّت کتنی
عشــق ہوجائے تو ہو جــاتی ہے شِـــؔـدَّت کتنی
لوگ مِلتے ہیں بِچــؔـــھڑتے ہیں چلے جـاتے ہیں
ہاں مگر مِل کــؔے بِچھڑنے کی ہے عِــدَّت کتنی؟
🥀💔

Gghhhko
 

جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا
تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا
سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

Gghhhko
 

اگر لگے کہ رویے بدل گئے ہیں، لہجے میں تلخی یا فاصلہ آ گیا ہے، تو خاموشی اختیار کر لیں…
مسکرا کر خود کو برا بنا کر نکل جانا اکثر عزت نفس بچا لیتا ہے۔
ہر جگہ اپنی صفائیاں دینا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر بار وضاحت کرنا آپ کا فرض بھی نہیں۔
کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے مضبوط جواب ہوتی ہے۔
جب دوسرے کا لہجہ زہر بن جائے تو اپنی مسکراہٹ کو ڈھال بنائیے،
کیونکہ کچھ لوگوں کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے — وہ محبت اور خلوص کی زبان سمجھ ہی نہیں سکتے۔
آپ جتنا بھی مخلص ہوں، سدا کسی کے لیے خاص نہیں رہ سکتے۔
وقت کے ساتھ ان کی نظر میں آپ کی اہمیت بدل سکتی ہے، لیکن یہ آپ کی قیمت کم نہیں کرتی۔
بس اتنا یاد رکھیں: کچھ لوگ اپنی کم ظرفی میں ہی خوش رہتے ہیں،
انہیں آپ کا خلوص بوجھ لگتا ہے، کیونکہ وہ خود کبھی سچا دینا جانتے ہی نہیں۔

Gghhhko
 

ہائے وہ شخص کہ جس کی خوبئ گفتار سے
عشق اردو سے ہوا اور شاعری اچھی لگی!
انور جلال پوری

Gghhhko
 

ویسے انمول ہیں ..... کئی پتھر ...
تیرے دل کا مگر ....جواب نہیں ...!!!

Gghhhko
 

کھڑکیاں بین کرتی ہیں۔۔۔
دروازے بجائے جاتے ہیں۔۔
صحن میں کالی رات کےسائے۔۔۔
صف ماتم اٹھائے آتے ہیں۔۔۔
اک عجب سی وحشت چھاتی ہے۔۔۔
سوکھے پتےسلگائے جاتے ہیں۔۔۔
ساون جب بھی آتا ہے۔۔۔
بارشیں جب بھی برستی ہیں۔۔۔
کئی خواب جلائے جاتے ہیں
کئ دئیے بجھائے جاتے ہیں۔۔۔
کوئی دیر تلک سسکتا ہے۔۔۔
کئی وعدے دہرائے جاتے ہیں۔۔۔
اک میٹھی ہوک اٹھتی ہے۔۔۔
کچھ نشتر چلائے جاتے ہیں۔۔۔
اک مقتل سجایا جاتا ہے۔۔۔
کئی دیوانے دفنائے جاتے ہیں۔۔۔
کتنی آوازیں گھٹتی ہیں۔۔۔
کتنے شکوے دبائے جاتے ہیں۔۔۔
ایک تیری یاد کے چکر میں۔۔۔
کئ ہزار بھلائے جاتے ہیں۔۔۔

Gghhhko
 

زندگی پہ کچھ اختیار بھی ہو!!
وقت کے پاؤں میں قرار بھی ہو!!
آپ کو مان لوں میں راحتِ جاں
آپ کا تھوڑا اعتبار بھی ہو !!
زود رنجی ہمیں گوارا ہے
دل میں لیکن ذرا سا پیار بھی ہو
رنگ سارے پسند ہیں مجھ کو
آپ کے شہر میں بہار بھی ہو!
زیست کاٹی کہ قید کاٹی ہے
آنے جانے پہ اختیار بھی ہو
سازِ دل چھیڑنا تو آساں ہے
رقص کرنا تِرا شعار بھی ہو
فاصلے حیثیت نہیں رکھتے
گر انہیں میرا انتظار بھی ہو
جس کو مرہم لگانا آتا ہے
حالِ دل اُس پہ آشکار بھی ہو!
ہر زلیخا پہل نہیں کرتی !!
گرچہ یوسف سے اسکو پیار بھی ہو
سامیہ ناز سیمیں

Gghhhko
 

تمھیں بخشی ہے دل پہ حُکمرانی اور کیا دیتے
بس یہی تھی اپنی راجدھانی اور کیا دیتے
ستاروں سے کسی کی مانگ بھرنا اک فسانہ ہے
تمھارے نام لکھ دی زندگانی اور کیا دیتے
وہ مجھ سے مانگتا تھا عمر کا اک دلنشیں حصہ
نہ دیتے اس کو اپنی جوانی اور کیا دیتے ❤️

Gghhhko
 

زندگی ، منہ بنائے پھرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!
جیسے حالات میرے بس میں ہیں

Gghhhko
 

جنت سے جی لرزنے لگا جب سے یہ سنا
اہل جہاں وہاں بھی ملیں گے یہاں کے بعد
منٹو اور جون✍️