مگر یہ بات چراغوں کی ڈائری میں نہیں
اندھیرا کمرے میں ہوتا ہے زندگی میں نہیں
تمام مسئلے وٹسپ پہ سولو ہوتے ہیں
تماشہ چیٹ میں کرتے ہیں اب گلی میں نہیں
مجھے پتہ ہے کہ تقسیم کس طرح ہوگی
میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں نرسری میں نہیں
وہ لفظ کس لیے میرے سخن کا حصہ ہوں
وہ جن کا دخل تری اپنی زندگی میں نہیں
برا نہ مان مگر خاص عورتانہ پن
ترے بدن میں سراسر ہے، شاعری میں نہیں
کنویں کے پاس کھڑے چور کو بتائے کوئی
مٹھاس انگلی میں ہوتی ہے بالٹی میں نہیں
جون حسن
سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے
خود کو ، خود پر حرام کرلیا ہے
دشت میں خاک بھی اڑا لی تھی
باغ میں بھی خرام کر لیا ہے
دل پسیجے تو کوئی بات بنے
ویسے پتھر تو رام کر لیا ہے
کچھ تو دنیا بھی دل کو نرم کرے
آگے بڑھ کر سلام کر لیا ہے
شہر بھر کی زباں پہ رہتا ہوں
میں نے اتنا تو نام کر لیا ہے
اک کہانی کو موڑ دیتے ہوئے
اپنا قصہ تمام کر لیا ہے
بے زبانی کا دکھ سمجھتا ہوں
خامشی سے کلام کر لیا ہے
انجم سلیمی
شرابِ ناب کے شیشے کا کاگ کھولا ہے
گرفت ساز سے ساقی نے راگ کھولا ہے
یہ کون بام پہ آیا ہے ،،، زُلف لہرا کر
یہ کِس نے بام پہ آکر بہاگ کھولا ہے
جہاں شعُور کوئی مشورہ نہیں دیتا
وہاں حیات کے جوگی نے تیاگ کھولا ہے
نفس نفس میں ہے بے نام آرزُو کی خلش
یہ زیست ہے کہ سَپیرے نے ناگ کھولا ہے
جلا کے اپنے نشیمن کی تِیلیاں ”ساغرؔ“
ہمیں نے گُلشنِ ہستی کا بھاگ کھولا ہے
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
مرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے
یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے
وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے ملنے آتا ہے
ہم اس طرح کسی ہرجائی سے نہیں ملتے
پُرانے زخم ہیں کافی ، شمار کرنے کو
سو، اب کِسی بھی شناسائی سے نہیں ملتے
ہیں ساتھ ساتھ مگر فرق ہے مزاجوں کا
مرے قدم مری پرچھائی سے نہیں ملتے
محبتوں کا سبق دے رہے ہیں دُنیا کو
جو عید اپنے سگے بھائی سے نہیں ملتے
راحت اندوری
ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف ســــیاہ
سر چڑھایا ہے تو کیا دل سے گــــرائیں تجھ کو
روٹھتا ہوں جو کبھی میں تو یہ کہتا ہے وہ شــــوخ
کیا غــــرض ہم کو پڑی ہے جو منائیں تجھ کو
✍️لالہ مادھــــو رام جوہر
بنا ڈالی ہے پیچیدہ اسے خود ہم نے خواہش سے
وگرنہ زندگی کا تو ہر اِک رُخ اور سادہ ہے
ادھورا پن بھی نعمت ہے اگر گوئی سمجھ پاۓ
مکمل ہو کے تنہا ہو تو یہ دُکھ اور زیادہ ہے
سوکھ جاتے ہیں تو تالاب کہاں جاتے ہیں
مری آنکھوں سے ترے خواب کہاں جاتے ہیں
ہر ملاقات پہ ملتے ہیں نئے زخم ہمیں
ہم ترے در سے شفایاب کہاں جاتے ہیں
میں تو بستر پہ تھکن اوڑھ کے سو جاتی ہوں
جانے تھک ہار کے اعصاب کہاں جاتے ہیں
میں کسی روز یہ پوچھوں گی سمندر سے ضرور
ڈوبنے والے تہہ ِ آب کہاں جاتے ہیں
تو زمانے سے تو ملتا ہے بڑی عزت سے
مجھ سے ملتے ہوئے آداب کہاں جاتے ہیں
ایک دن میں نے بھی جانا ہے وہیں آخر کار
جانتی ہوں مرے احباب کہاں جاتے ہیں
موسم ِ ہجر ہے برسات کا موسم سعدی
اور برسات میں سیلاب کہاں جاتے ہیں
سعدیہ صفدرسعدی
زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا.........!!
ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا، نہیں چھوڑا جاتا
عین ممکن ھے تِرے ہجر سے مل جائے نجات
کیا کریں یار ! یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا
چھوڑ جاتی ھے بدن روح بھی جاتے جاتے
قید سے کوئی بھی پورا نہیں چھوڑا جاتا
اس قدر ٹوٹ کے ملنے میں ھے نقصان کہ جب
کھیت پیاسے ھوں تو دریا نہیں چھوٍڑا جاتا
چھوڑنا تجھ کو میری جاں ھے بہت بعد کی بات
ھم سے تو شہر بھی تیرا نہیں چھوڑا جاتا
💞Nain💞
جی کرتا ہے کسی سے ملاقات ہو نہ، پر
دستک پہ ہو گماں جو ترا، دوڑتے ہیں ہم
سوچا نہ تھا کبھی کہ جدا ہوں گے راستے
تیری ہی آرزو پہ تجھے چھوڑتے ہیں ہم
فریال شیخ
دُکھ یہ ھے, میرے یُوسف و یعقوب کے خالِق
وہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ سِتم خیز, تیری خیر کہ تو نے
پنچھی وہ اُڑائے کہ جو اڑنے کے نہیں تھے
تم سے تو کوئی شکوہ نہیں, چارہ گری کا
چھوڑو یہ میرے زخم ہی بَھرنے کے نہیں تھے
اے زیست! اِدھر دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل رات تیری یاد نے طوفاں وہ اُٹھایا
آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ ایام، ہمیں رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہیں تھے
زکریا شاد
کوئی تو دن بھی ہو ایسا وہ بھول جائے مجھے
کوئی تو رات ہو ایسی نہ یاد آئے مجھے
میاں میں شیر ہوں شیروں کی غراہٹ نہیں جاتی
میں لہجہ نرم بھی کر لوں تو جھنجھلاہٹ نہیں جاتی
میں اک دن بے خیالی میں کہیں سچ بول بیٹھا تھا
میں کوشش کر چکا ہوں منہ کی کڑواہٹ نہیں جاتی
جہاں میں ہوں وہیں آواز دینا جرم ٹھہرا ہے
جہاں وہ ہے وہاں تک پاؤں کی آہٹ نہیں جاتی
محبت کا یہ جذبہ جب خدا کی دین ہے بھائی
تو میرے راستے سے کیوں یہ دنیا ہٹ نہیں جاتی
وہ مجھ سے بے تکلف ہو کے ملتا ہے مگر رانا
نہ جانے کیوں میرے چہرے سے گھبراہٹ نہیں جاتی
منور رانا
شبیہہ اُسکی جو بناؤں تو بَن جاتا ہے گُلستاں۔۔۔۔
اِسم جو لکھوں ہاتھ پہ تو خوشُبو نہیں جاتی۔۔۔!!
ہزار حسرتیں مَریں مگر وہ یاد ہے اَزبر یُوں کہ۔۔۔۔
جیسے مَرنے والے کو جینے کی آرزُو نہیں جاتی۔۔۔۔!!!
#ہیرسیال
#viral
وہ کرتے ہیں چھپ کے تدبیر اسے کہتے ہیں
ہم دھر لیے جاتے ہیں تقدیر اسے کہتے ہیں
نصیر الدین نصیر✨
یہ کیسی رات ہے جس کا ستارہ کوئی نہیں
تمہارے ہوتے ہوئے بھی __ ہمارا کوئی نہیں
درِ وجود پہ دستک ہوئی تو پوچھا کون
پھر ایک شخص دروں سے پکارا کوئی نہیں
وہ چند لمحے جو تم سونپ کر چلے گئے تھے
وہیں پہ رکھے ہوئے ہیں گزارا کوئی نہیں
تیری نگاہ نئے راستے بتاتی ہے
ہمارے واسطے لیکن اشارہ کوئی نہیں
۔۔۔۔۔
ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮐﭽﮫ ﻧِﮑﻠﺘﺎ ﮬﮯ
ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ.
وہ میری آنکھ سے نکلا ہوا ہجرت زدہ شخص
ایسی محفوظ پناہوں کو ترستا ہوگا۔۔۔
اسطرح چھوڑ کے تنہا مجھے جانے والے
تو نے سوچا ھے کوئی کیسے سنبھلتا ہوگا ؟
#hiba______writes
نہ چاند اپنا تھا نہ تو اپنا تھا
کاش یہ دل بھی مان لے کہ یہ سب ایک سپنہ تھا۔۔!!🥀
تیمور
خود کو مصروف کیے رکھنے کی کوشش کرنا
کیا، تری یاد کے زمرے میں، نہیں آتا ہے
دل نہ اچھا ہو تو کچھ بھی نہیں اچھا لگتا
سایۂ گیسوئے دلدار نہ اچھا موسم
گردشِ عشق جُدا ، گردشِ ایّام جُدا
رُت بدلنے سے بدلتا نہیں دل کا موسم
احمد مشتاق
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain