فطرتاً تنکا ہوں، بنتا ہوں سہارا جس کا
وہ ڈبو کر مجھے، خود پار چلا جاتا ہے
غم کی تشہیر سے ہم نے یہ سبق پایا ہے
غم وہیں رہتا ہے، غم خوار چلا جاتا ہے
تیری آواز میسر جو نہیں ہفتوں سے
میرے کانوں پہ بڑا قحط پڑا ھے جاناں
دل کے کمرے کو سہولت تھی تیرے ھونے سے
تُو نہیں تو سبھی تہس نہس پڑا ھے جاناں
پھر دل یہ کہہ رہا ہے چلو آرزو کریں
کچھ اور ہے نصیب مگر جستجو کریں
محفل سے بھی عزیز وہ تنہائی کیوں نہ ہو
جس میں ہم اپنے آپ سے کچھ گفتگو کریں
سب کچھ تری رضا سے ہی مشروط ہے تو پھر
اب تجھ سے پوچھ کر ہی کوئی آرزو کریں
اتنی کدورتیں ہیں تو کیونکر ملائیں ہاتھ
جب ربطِ دل نہیں ہے تو کیا گفتگو کریں
ڈر جائیں اپنے آپ سے یہ خود پسند لوگ
خود کو جو آئینے کے کبھی روبرو کریں
اب تارِ مصلحت سے الجھنے لگا ہے دل
عنبر لباس زیست کہاں تک رفو کریں
عنبرین حسیب عنبر
💞Nain💞
خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے
بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے
منتظر ہی نہ رہا بامِ تمنا پہ کوئی
اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے
شامِ صد رنگ مرے آئینہ خانے میں ٹہھر
میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے
اور کچھ ہاتھ نہ آیا تو مری آنکھوں نے
چُن لیے خواب ہی بکھرے ہوئے شیرازے سے
مقصود وفا
کب ضروری ہے شناسائے حقیقت ہی رہوں
زندگی بسر خیالوں میں بھی ہو سکتی ہے
دلکشی صرف حسینوں کی ہی جاگیر نہیں
کچھ کشش دیکھنے والوں میں بھی ہو سکتی ہے
ن م
ہجر آساں ھے عاصم سہوُلت سے گُزر جائے گا
کِتنا سفید جھوٹ تھا جو خود سے کہا میں نے
عاصم حجازی ✍️
دل چاہتا ہے پلٹ جاؤں آسمان کی طرف
مزاج اہل زمیں کا ملتا نہیں مجھ سے 🖤
مُجھ کو ہزار دُکھ ہیں مگر تیرے عِشق میں
اُجڑی ہوں اِس طرح کہ کہیں کی نہی رہی
تا عمر درد دے گا مُجھے ایک دُکھ کہ میں
جس آنکھ کی مکیں تھی وہیں کی نہیں رہی
آواز لگانے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے
پہلے تو چلو عشق تھا ، اب کچھ بھی نہیں ہے
اُس وقت مرے پاس محبت بھرا دل تھا
تم لوٹ کے اب آئے ہو جب کچھ بھی نہیں ہے
#BMW
#yasminhaque
کون سی رُت ہے زمانے، ہمیں کیا معلوم
اپنے دامن میں لئے پھرتی ہے حَسرت ہَم کو
اَمجد اسـلام اَمجدؔ
پھول کچھ روز میں لوٹ آئیں گے
دل دوبارہ نہیں کھلنا ، افسوس ! 😔💔
حادثے کی مار سے ٹوٹے مگر زندہ رہے
زندگی جو زخم تو نے بھی دیا گہرا نہ تھا
میں نہیں چاہتا اب لوگ تماشا دیکھیں
اس لیے درد کو خوشیوں کے بہم رکھا گیا
میں ترا آخری خط کھولنے سے ڈرتا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ صندوق میں بم رکھا گیا
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محوِ نام بھی اکثر کے ہو گئے
اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں
اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے
اس شہرِ تمنّا میں کوئی مجھ سا مکیں ہے ؟
آندھی میں چراغوں پہ جسے پورا یقین ہے؟🥀
#آنستاسیہ👑
تُو بَصدِ شوق رواں رَکھ_ بازوئے سِتم پرَ
میں ترا مُبتلا ہوں مُجھے مُبتلا رہنے دے
عاصم حجازی ✍️
کبھی اس درد سے گزرو تو تم کو معلوم ہو
جدائی وہ بیماری ہے جو دل کا خون پیتی ہے
💔
خود کو فریب دو کہ نہ ہو تلخ زندگی
ہر سنگ دل کو جان وفا کہہ لیا کرو 🌸
قتیل شفائی
مارا نگاہ ناز سے پہلے جگر پہ تیر
پھر اُس پہ حکم یہ ہے کہ لب پر فغاں نہ ہو
داغ دہلوی
تو یقیناً کسی شاعر کی محبت ہو گی 🍁
کون ہوتا ہے بھلا اتنا حسیں ایسے ہی 🖤
ساجد رحیم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain