آواز لگانے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے
پہلے تو چلو عشق تھا ، اب کچھ بھی نہیں ہے
اُس وقت مرے پاس محبت بھرا دل تھا
تم لوٹ کے اب آئے ہو جب کچھ بھی نہیں ہے
سچوں کی نقابیں بھی الٹ جائیں گی اک دن
اس جھوٹ کی دنیا میں عجب کچھ بھی نہیں ہے
ہر ایک کو ملتی ہے محبت بھی جفا بھی
اور میرے مقدر میں یہ سب کچھ بھی نہیں ہے
ٹھوکر پہ پڑے ہوتے ہیں کم نام قبیلے
کہنے کو یہاں نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے
ہم اپنے چراغوں کو یہ سمجھاتے رہیں گے
یہ تیرہ شبی ، وحشتِ شب کچھ بھی نہیں ہے
کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💞Nain💞
ھم کہ مامُور ہیں ، ھر شخص کی دِلجوئی پر
ھم کِسے جا کے سُنائیں ، جو ہمارا دُکھ ھے۔؟؟
:ہے شوق سفر ایسا کہ ہم نے ایک مدت سے
نہ ہی منزل بدلی اور نہ ہی راستہ بدلا🌷💌
#عالیہ
جہاں بھی تیسرے چہرے کا خدشہ رکھے گا
خدا وہاں پہ بچھڑنے کا خطرہ رکھے گا
بچھڑتے وقت گلے سے لگایا تھا تجھ کو
یہی خیال گھٹن میں بھی زندہ رکھے گا
بٹا ہوا ہے محبت میں غیر کی لیکن
میں سوچتی ہوں کہ میرا بھی حصہ رکھے گا
بہو وہ لایا ہے ماں کے پسند کی دیکھو
وہ خوش رہے نہ رہے ،ماں کو ٹھنڈا رکھے گا
تو چاہے تو مری چاہت کا گھر گرا بھی دے
یہ دل تری ہی محبت کا ملبہ رکھے گا
سنبل چودھری.
ہو کر بھی جدا مجھ کو جدائی تو نہیں دی
چھوڑا ہے مجھے اس نے رہائی تو نہیں دی
کیوں شور بپا ہو گیا بستی میں اچانک
اک دل ہی دیا اس کو خدائی تو نہیں دی
اس نے بھی بھرم توڑ دیا میری وفا کا
میں نے بھی سرِ بزم دہائی تو نہیں دی
جو بات اسے کہہ کے میں لوٹی ہوں وہاں سے
وہ بات مری اس کو سنائی تو نہیں دی
میں نے بھی وضاحت کبھی مانگی نہیں اس سے
اس نے بھی کبھی آ کے صفائی تو نہیں دی
فرقت میں تری دشت نشینی کے علاوہ
مجھ کو بھی کوئی راہ سجھائی تو نہیں دی
بینائی جو گم ہو گئی آنکھوں سے حیات اب
تجھ کو ترے رستے میں دکھائی تو نہیں دی ؟
شفقت حیات شفق
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہے
پاگل ہے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہے
خود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اب سر کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہے
کل رات تو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دن کے اجالے میں دیا ڈھونڈ رہا ہے
شاید کے ابھی اس پہ زوال آیا ہوا ہے
جگنو جو اندھیرے میں ضیا ڈھونڈ رہا ہے
کس شہرِ منافق میں یہ تم آ گئے ساغرؔ
اِک دوجے کی ہر شخص خطا ڈھونڈ رہا ہے
ساغر صدیقی
مشکل میں اک نجات دہندہ ضرور ہو
سر جس پہ رکھ کے روئے وہ کندھا ضرور ہو
معشوق ہو حسیں یہ ضروری نہیں مگر
عاشق کو چاہیئے کہ وہ اندھا ضرور ہو
داغ دہلوی
فطرتاً تنکا ہوں، بنتا ہوں سہارا جس کا
وہ ڈبو کر مجھے، خود پار چلا جاتا ہے
غم کی تشہیر سے ہم نے یہ سبق پایا ہے
غم وہیں رہتا ہے، غم خوار چلا جاتا ہے 🙂
میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں
جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں
بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں
ورنہ دنیا میں تو سب لوگ بشر آتے ہیں
دل میں رہنے کے طریقے مجھے معلوم نہیں
یار تم مجھ کو سکھا دو گے؟ اگر آتے ہیں
ایک کھڑکی میرے ماضی کی طرف کھلتی ہے
جس میں دھندلائے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں
تیرا دل کیوں نہیں بھر آتا مرے اشکوں سے
اتنے پانی سے تو تالاب بھی بھر آتے ہیں
امن شہزادی
سراپا آرزو ہوں، درد ہوں __________داغِ تمنا ہوں
مجھے دنیا سےکیا مطلب کہ میں آپ اپنی دنیا ہوں
کبھی کیف مجسم ہوں ،کبھی شوقِ سراپا ہوں
خدا جانے کس کا درد ہوں ،کس کی تمنا ہوں !!!
بڑھا کے گردشِ کون و مکان کی رفتار
میں اپنی صبح تری شام تک تو لے آیا
اب اس سے آگے یقینًا یقیں کا دوزخ ہے
کہ ذہن و دل کو میں اوہام تک تو لے آیا
Gum Nam
یہ بھروسہ بھی عجب فریب نکلا،
جس پر کیا، وہی سببِ شکست نکلا۔
جان جبران ۔
زادِ سفر کے طور پر اس کائنات میں ۔۔
اک اعتماد ذات ہوں۔۔۔۔۔ اور کچھ ہو نہ ہوــــــــ 🙂
درویش طبیعت مجھے ورثے میں ملی ہے.!
میں ٹھیک،غلط،اچھا،برا،کچھ نہیں کہتا_
اے نیک منش میری نہیں ، فکر کر اپنی
اجڑے ہوئے لوگوں کو خدا کچھ نہیں کہتا_
کیا پھر نہ رواں ہوگا وہ آواز کا دریا
کیا تشنہ سماعت لیے مر جائیں گے ہم لوگ۔
#hijrzada
دنیا نے ہم پہ جب کوئی الزام رکھ دیا
ہم نے مقابل اُس کے تیرا نام رکھ دیا
اک خاص حد پہ آ گئی جب تیری بے رخی
نام اُس کا ہم نے گردشِ ایام رکھ دیا
میں لڑکھڑا رہا ہوں تجھے دیکھ دیکھ کر
تو نے تو میرے سامنے اک جام رکھ دیا
کتنا ستم ظریف ہے وہ صاحبِ جمال
اُس نے دیا جلا کے سرِ بام رکھ دیا
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیل
مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
#tharkimashoomsha
عاشقی بے دلی سے مشکل ہے
پھر محبت اسی سے مشکل ہے
عشق آغاز ہی سے مشکل ہے
صبر کرنا ابھی سے مشکل ہے
ہم کو آساں ہیں اور ہمارے لیے
دشمنی دوستی سے مشکل ہے
جس کو سب بے وفا سمجھتے ہوں
بے وفائی اسی سے مشکل ہے
ایک کو دوسرے سے سہل نہ جان
ہر کوئی ہر کسی سے مشکل ہے
تو بضد ہے تو جا فراز مگر
واپسی اس گلی سے مشکل ہے
✨احمد فراز✨
#everyonefollowers
شہرِ سکوں میں باعثِ افتاد کون ہے
کس نے یہ جال بُن دیا ، صیاد کون ہے ؟
ایسا ہنر کہ خود پہ نہ الزام آ سکے
اے ماہرِ جفا ترا استاد کون ہے
اجڑے ہوئے ہیں لوگ بھی ، دل بھی ، مکان بھی
اس شہرِ بے امان میں آباد کون ہے ؟
اے قصہ گو ! یہ داستاں بے رنگ سی لگی
میں بھی نہیں تو شاملِ روداد کون ہے ؟
اک مسخرہ بھی مجھ پہ اب انگلی اٹھائے گا
افسوس ، دیکھیے مرا نقاد کون ہے ؟
اپنی انا کا دائرہ اپنی غرض کی جیل
سب لوگ قید ہیں تو پھر آزاد کون ہے ؟
#tharkimashoomsha
تُو تو اس واسطے مجھ سے رہے اکتایا ہوا
میں میسر ہوں تمہیں رابطے میں آسانی ہے
تُو جو بولے تو ہر اک حرف کے سو معنی ہیں
تُو نہ بولے تو ہر اک لفظ ہی بے معنی ہے🍁
جاں کا کیا ہے بھلے تُو دیکھے مجھے نہ دیکھے
اک طرف آنی ہے اور دوجی طرف جانی ہے
🖤🖤
Blac Rose
جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
آفت کے وقت وہ بھی ، تماشائیوں میں تھا
اس کا علاج ، کوئی مسیحا نہ کر سکا
جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا
وہ تھے بہت قریب ، تو تھی گرمئ حیات
شعلہ ہجوم شوق کا پروائیوں میں تھا
کوئی بھی ساز ، ان کی تڑپ کو نہ پا سکا
وہ سوز ، وہ گداز ، جو شہنائیوں میں تھا
بزم تصورات میں ، یادوں کی روشنی
عالم عجیب رات کی تنہائیوں میں تھا
اس بزم میں چھڑی جوکبھی جاں دہی کی بات
اس دم ہمارا ذکر بھی سودائیوں میں تھا
کچھ وضع احتیاط سے ، بانوؔ تھے ہم بھی دور
کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا
#شکیلہ بانو بھوپالی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain