*خدا کی قدرت* کچھ عرصہ پہلے انسانی اموات کے حوالہ سے یہ چھ ممالک سر فہرست تھے: 1 شام 2 عراق 3 فلسطین 4 افغانستان 5 لیبیا 6 کشمیر آج کی ترتیب یہ ہے: 1 امریکہ 2 اٹلی 3 سپین 4 فرانس 5 برطانیہ 6 جرمنی وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ(آل عمران: 140) اور یہ ایام ہیں جن کو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔
آج میں نے عقیدہ ختم نبوت کا قرآن پاک سے اسلوب کے دواسلوب آپ لوگوں کے سامنے پیش کیے ہیں خود بھی پڑھیں دسروں کو بھی پڑھواٸیں اور اپنے لیے صدقہ جاریہ بناٸیں۔
{ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسماعیل پر۔} ان تینوں آیتوں میں اور ان جیسی اور آیات میں اﷲتعالیٰ نے ہمیں گزشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کی نبوت ورسالت کو کہیں بھی صراحۃً وکنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت ورسالت سے نوازنا مقدر تھا، پس وہ ہو چکے اور گزر گئے۔اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی اور بعد میں نبوت کی راہ کو ہمیشہ کے لئے مسدود کر دیا گیا ہے اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہو سکے گا۔
وہ ماضی میں حاصل ہو چکا ہے اور انہی کا ماننا داخل ایمان ہے۔آنحضرت ﷺ کے بعدکوئی ایسی شخصیت نہیں جس کونبوت بخشی جائے اوراس کا ماننا ایمان کا جزو لازمی قرار دیا گیا ہو۔ ۱- ’’قُوْلُوْآ اٰ مَنَّابِاﷲِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنِزِلَ اِلٰیٓ اِبْرَاہِیْمَ (بقرۃ:۱۳۶)‘‘ {تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور جو اتارا ہم پر اور جو اتارا ابراہیم پر۔} ۲- ’’قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَآاُنْزِلَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ (آل عمران:۸۴)‘‘ {تو کہہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور جو کچھ اتارا ہم پر اور جو کچھ اتارا ابراہیم پر۔} ۳- ’’اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ وَاَوْحَیْنَآ اِلٰیٓ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ (نساء:۱۶۳)‘‘
۷- ’’کَذٰلِکَ یُوْحِیْ ٓاِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ (شوریٰ:۳)‘‘ {اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اورتجھ سے پہلوں کی طرف اﷲ زبر دست حکمتوں والا ہے۔} مندر جہ بالا تمام آیتوں میں اﷲتعالی نے ہمیں صرف اُن کتابوں ، الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم سے صرف اُن ہی انبیاء کو ماننے کا تقاضہ کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں اور بعد میں کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔ یہ چندآیتیں لکھی گئی ہیں۔ورنہ قرآن پاک میں اس نوعیت کی اوربہت سی آیتیں ہیں۔ مندرجہ بالا آیتوں میں ’’من قبل،من قبلک‘‘ کاصریح طورپرذکرتھا۔ اسلوب-۲ اب چندوہ آیتیں بھی ملاحظ فرما ئیے جن میں خدا تعالی نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا
{اے ایمان والو!یقین لاؤ اﷲ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی گئی پہلے۔} ۵- ’’اَلَمْ تَرَاِلیَ الَّذِ یْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْ ابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۶۰)‘‘ {کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعوی کرتے ہیں کہ ایمان لا ئے ہیں اس پر جو اتارا تیری طرف اور جو اتارا تجھ سے پہلے۔} ۶- ’’ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (زمر:۶۵)‘‘ {اورحکم ہوچکا ہے تجھ کواورتجھ سے اگلوں کوکہ اگرتونے شرک مان لیاتواکارت جائیں گے تیرے اعمال اورتوہوگاٹوٹے میں پڑا۔ (یعنی یقنی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے)}
۲- ’’یٰٓااَہْلَ الْکِتَابِ َہلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآاِلَّآاَنْ اٰمَنَّابِاللّٰہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ (المائدہ:۵۹)‘‘ {اے کتاب والو!کیاضدہے تم کو ہم سے مگریہی کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اورجونازل ہواہم پر اورجونازل ہوچکاپہلے۔} ۳- ’’لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۱۶۲)‘‘ { لیکن جوپختہ ہیں علم میں ان میں اورایمان والے ‘سومانتے ہیں اس کو جونازل ہواتجھ پراورجونازل ہوا تجھ سے پہلے۔} ۴- ’’یٰآاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآاٰمِنُوْابِاﷲِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (نساء:۱۳۶)‘‘
حالانکہ آنحضرت ﷺ کے بعداگرکسی فرد بشر کونبوت عطاکرنا مقصود ہو تاتوپہلے انبیاء کی بہ نسبت اس کاذکرزیادہ لازمی تھااوراس پرتنبیہ کرنا ازحدضروری تھا۔کیوں کہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام اوران کی وحییں توگزرچکیں۔ امت مرحومہ کو تو سابقہ پڑناتھا آنحضرت ﷺ کے بعدکی نبوتوں سے، مگران کانام ونشان تک نہیں۔ بلکہ ختم نبوت کوقرآن مجیدمیں کھلے لفظوںمیں بیان فرماناصاف اور روشن دلیل ہے اس بات کی کہ آنحضرت ﷺ کے بعدکسی شخصیت کونبوت یارسالت عطا نہ کی جائیگی۔ مندرجہ ذیل آیات پرغورفرمایئے۔ ۱- ’’یُؤمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالاٰخِرَ ۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ (بقرۃ:۴)‘‘ {ایمان لائے اس پرکہ جوکچھ نازل ہوتیری طرف اورا س پرکہ جوکچھ نازل ہواتجھ سے پہلے اورآخرت کووہ یقینی جانتے ہیں۔}
عقیدہ ختم نبوت ا ور قرآن مجیدکا اسلوب بیان:- نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم:امابعد اسلوب نمبر۱ قرآن مجیدنے جہاں خداتعالی کی توحید اورقیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کاجزو لازم ٹھہرایا۔وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کااقرارکرنابھی ایک اہم جزو قرار دیاہے اورانبیاء کرام علیہ السلام کی نبوتوں کو ماننااوران پرعقیدہ رکھناویسے ہی ا ہم اورلازمی ہے جس طرح خدا تعا لیٰ کی توحیدپر۔ لیکن قرآن مجید کواول سے آخرتک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کااقرارکرایاگیاہو اورجس جگہ کسی وحی کو ہمارے لئے ماننالازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت و وحی کاہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعدکسی کو نبوت حاصل ہواور پھراس پرخداکی وحی نازل ہوکہیں کسی جگہ پراس کا ذکرتک نہیں۔نہ اشارۃًنہ کنایۃً۔
﷽ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یا اللہ سب سے پہلے تیرا شکر ہے الحَمْدُ ِلله یا اللہ ہمیں ہمت وطاقت عطا فرما یا اللہ ہماری اس کوشش کو قبول منظور فرما یا اللہ اس دنیا سے قادیانیوں کا جڑ سے خاتمہ کر دے جیسے مسیلمہ اور دیگر نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا سر قلع قمع کیا یا اللہ اپنی بارگاہ میں ہماری اس ادنیٰ سی کوشش کو قبول منظور فرما یا اللہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا آمین یا غیاث المستغثین۔ اب شروع کرتے ہیں عقیدہ ختم نبوت کا قرآن مجید کے اسلوب کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت ا ور قرآن مجیدکا اسلوب بیان نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم:امابعد اسلوب نمبر۱ قرآن مجیدنے جہاں خداتعالی کی توحید اورقیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کاجزو لازم ٹھہرایا۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ میں یہاں قادیانوں کے شبہات کے جوابات مکمل کتاب شٸیر کروں گی جس نے پڑھنے ہوں ترتیب سے پڑھیں اوراس کو آگے پھیلا کر نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کے صدقے تحفظ ختم نبوت کی خاطر اپنی جی جان لڑا دیں ۔ ایک زور دار نعرہ تحفظ ختم نبوت زندہ باد مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار
ھدایت یا برايی کے سبب بننے کانتیجہ________ عن ابي هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من دعا الى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه ولاينقص ذلك من اجورهم شيياومن دعاالى ضلالة كان عليه من الاثم مثل اثام من تبعه ولاينقص ذلك من اثامهم شييا________ رواه مسلم__________ ترجمہ:جس نےھدایت کی دعوت دی اسے اس ھدایت کےپیروی کرنے والوں کےبرابر اجرملےگا اور ان کےاجروں میں کويی کمی واقع نھیں ھوگی اور جس نےگمراھی کی دعوت دی اسےاس گمراھی کےپیروی کرنےوالوں کےبرابرگناہ ملےگااور ان کےگناھوں میں کويی کمی واقع نھیں ھوگی_____مسلم _________
بیکار گفتگو سے مری جان چھوٹ جائے ہر وقت کاش لب پہ درود و سلام ہو 💕💕صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💕💕 دنیا کی اعلی ترین مصروفیت۔۔۔۔۔۔۔۔😍 حضورﷺپر درودوسلام بھیجنا ہے🌹 اس دوست کا تعلق__ اس دوست کا رشتہ بالکل سیدها براہ راست نبی پاکﷺ سے ہے__ اس دوست سے تم بهی دوستی کر لو__ تمہیں نبی پاکﷺ سے قریب کر دے گا__ دنیا میں بهی__ اور آخرت میں بهی__ بندے اور نبی پاکﷺ کے بیچ میں ہے یہ دوست__ درود پاک ہے یہ دوست__یہ نبی پاکﷺ کا دوست ہے __درودِپاک پڑها کرو.
*سلسلہ احادیث مبارکہ* *🌴 رمضان المبارک کے تقدُّس کا خیال ضرور رکھئیے اپنے مزاج میں تبدیلی لَا کر بے جا غصہ، گالی دینا، فحش گوئی، بغض کینہ رکھنا، لڑائی جھگڑا کرنا ان سب فضول عادات سے مکمل طور پر اجتناب لازم ھے 🌴* 🌹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر *روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ھے * اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو *تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہئے اور نہ شور مچائے* اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہئے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ *میں ایک روزہ دار آدمی ہوں*۔ *اس ذات کی قسم* جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے
اللہ کے سوا کوئی داتا نہیں ہے کسی غیر سے میرا ناتا نہیں ہے تو جو چاہیے پل بھر میں کردے اللہ تیرے سامنے کوئی آتا نہیں ہے محمد ﷺ کی تعلیم پر چلنے والا کسی غیر کے در پہ جاتا نہیں ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain