بغیر وجہ کے کوئی کسی کو نہیں چھوڑتا خاص طور پر اُس شخص کو جِسے استخاروں اور دعاؤں سے پایا ہو پر مجبوریاں بھی تو شاملِ فطرت ہیں کبھی باپ کی پگڑی محبت کے گلے میں پھانسی کا پھندا پہنا دیتی ہے تو کبھی بھائیوں کی عزت کا پاس رکھنے کے لیے ساری زندگی کے لیے قربانیوں کے گہرے اور اندھے کنویں میں چھلانگ لگانی پڑتی ہے ماں باپ آخری خواہش پوچھے بغیر مقتل کی طرف دھکیل دیتے جہاں انسان بظاہر تو زندہ ہوتا ہے لیکن شائد اندر سے متعدد بار مر چکا ہوتا ہے