"راضی نامۂ" میرے محبوب اگر ایک مرد میری چاہ میں مبتلا ہے تو وہ تم نہیں ہو اگر سو مرد مجھ سے محبت کرتے ہیں تو ان میں تمہارا نام کہیں بھی نہیں ہے اور ہزار مرد مجھے چاہتے ہیں تو یقیناً وہ کسی دور دراز جزیرے کے مکیں ہیں خوبصورت جوان اگر تو اس روئے زمیں کے تمام مرد میری محبت سے سرشار ہیں تو افسوس پھر__!! "تم مر چکے ہو" (رسول حمزہ توف کی نثری نظم سے متاثر ہو کر لکھی گئی) زویا ممتاز ❤❤