کاش تم اپنے
کہے ہوئے
جملوں کے کفارے
ادا کر سکو
اور جان سکو
زندگی دے کر سانسیں
چھین لینا کیسا ہو گا
یہ جو دکھ ہوتے ہیں نہ یہ بھی ضروری ہوتے ہیں دکھ کا بھی شکر کریں یہ ہمیں سزا دینے کے لیے نہیں ہماری آنکھ کھولنے کے لیے آتے ہیں
جیسے کوئی بچہ چوٹ لگتے ہی رو کر دوڈ کر اپنی ماں کی طرف بھاگتا ہے اسی طرح ہم بھی مشکل دکھ درد اور پریشانی میں اپنے رب سے رجوع کرتے ہیں
فلسفۂ حیات
یاد رہے گا یہ دورِ حیات ہمیں
کیا خوب ترسے تھے اِک شخص کیلئے
❤❤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain