بڑے انجان موسم میں بہت بے رنگ لمحوں میں بِنا آہٹ بِنا دستک بہت معصوم سا سپنہ اُتر آیا ہے آنکھوں میں بِنا سوچے بِنا سمجھے کہا ہے دل نے چپکے سے ہاں اس معصوم سپنے کو آنکھوں میں جگہ دے دو بِنا روکے بِنا بولے جھکا دیا ہے سر ہم نے مگر تعبیر کیا ہوگی یہ ہم جانے نہ دل جانے بس معلوم ہے اتنا کہ دل کے فیصلے اکثر ہمیں کم راس آئے ہیں
کبھی کبھی کسی کے الفاظ ہمیں اس قدر چبھتے ہیں کہ ہم چپ ہو جاتے ہیں اس وقت کہنے کو تو بہت کچھ ہوتا ہے بہت باتیں ہوتی ہیں ہمارے پاس لیکن ہم زبان سے ایک الفاظ بھی ادا نہیں کر پاتے بس آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کہ کیا واقعی ہم اتنے برے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain