اے آنکھ تو کیوں روتی ہے قافلے والے چلے گئے اے آنکھ تو پھر کیوں روتی ہے وہ مجھے پیچھے اکیلا چھوڑ گئے اے آنکھ تو رونا بند کر اس قافلے میں میرا محبوب تھا افسوس ہاں پھر تو رو یارم از سمیرا حمید ❣❣
اپنی اذیت کو لفظوں میں اُتاریں خاموشی اختیار کر لیں مگر سامنے والے سے گلہ مت کریں گوشہ نشیں ہو جائیں مگر اپنا معیار مت گرائیں عزت نا ملے تو کنارہ کشی کر لیں وقت کی بھیک نہ مانگیں عزت اور محبت کے بغیر کسی رشتے کا وجود نہیں عزت وہ نہیں جو باتوں سے سنائی جاتی ہے عزت وہ ہے جو عمل سے دکھائی دیتی ہے ❣❣