بہت برے لگتے ہیں مجھے وہ لوگ جو دوسروں کو سمجھانے کے لئے بات پہ بات شریعت اور قرآن و حدیث کو لے آتے ہیں مگر جب خود پہ بات آتی ہے تو یہی قرآن نہ صرف بند کر کے طاق میں رکھ دیتے ہیں بلکہ دلوں کو بھی تالے لگا دیتے ہیں
مجھے ہمیشہ سے اپنی پرانی چیزوں سے بہت محبت رہی ہے مجھے نئی چیزوں کے رنگ میں ڈھلنا نہیں آتا میری دعائیں خاموش سی ہوتی ہیں مجھے اپنی کیفیات کو الفاظ میں اتارنا نہیں آتا سب سمجھتے ہیں مجھے فرق نہیں پڑتا اور مجھے بھی کسی کو کچھ بتانا نہیں آتا جو دل میں ٹھہر جاتا ہے میرے،اسے میں حافظے میں بسا لیتی ہوں مجھے کوئی بھی تعلق دل سے توڑنا نہیں آتا میری خوداری کو آپ انا سمجھ سکتے ہیں لیکن معذرت ...مجھے اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنا نہیں آتا ہر لحاظ سے بہتر ہوں بس ایک خامی ہے مجھ میں مجھے زمانے کے ساتھ بدلنا نہیں آتا ❤❤
تڑپ جب دل میں اترتی ہے تو دل رات کے آخری پہر میں اللہ کو ڈھونڈنے لگتا ہے اور جانتے ہو وہ اپنی تلاش کی طلب لگاتا ہی تب ہے جب وہ چاہتا ہے کہ میرا بندہ مجھ تک پہنچ جائے بس پھر ملاقات کا لمبا سلسلہ شروع چلتا ہے ہر موضوع پہ گفتگو کی جاتی ہے کبھی آنسو بہائے جاتے ہیں تو کبھی بے بسی اس کی سامنے رکھ دی جاتی ہے بڑے لاڈ اور ناز سے اُسے منایا جاتا ہے پھر تکلیف سے کانپتا ہوا انسان سجدے میں گرتا ہے تب عشق کی تمام حدیں ٹوٹ جاتی ہیں نہ فاصلوں کی ہوش رہتی ہے نہ اپنی بس پھر روح میں اللہ سما جاتا ہے اور ساری پیاس ختم ہو جاتی ہے ❤❤
کون روک سکتا ہے لاکھ ضبط خواہش کے بے شمار دعوے ہیں اُس کو بھول جانے کے بے پناہ ارادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اُس کی آہٹ پر برملا ڈھڑکنے سے کون روک سکتا ہے ❤❤