Damadam.pk
Hanis's posts | Damadam

Hanis's posts:

Hanis
 

مرد ہو تم !
تمہاری ہستی کا اتنا تو رعب ہو ، پاس سے گزرے جو کوئی عورت بے خوف ہو

Hanis
 

مکمل جہاں کسی کو بھی نہیں ملتا
ہر کوئی ادھوری خواہشات کے ساتھ زندہ ہے
ہمیں لگتا ہے کہ زندگی ہمارے ساتھ تلخ ہے
مگر دوسروں کی پریشانیاں سنیں گے نہ
تو اپنی بھول جائیں گے🥀

Hanis
 

میں ٹھہری اپنے نصیب سے ڈری ہوئی لڑکی
جو دوسروں کو اچھے نصیب کی دعا دیتی ہوں

Hanis
 

جس کی غلطیوں کو بھول کر میں نے ہر بار رشتہ نبھایا ہے
اسی نے مجھے ہر بار فالتو ہونے کا احساس دلایا ہے

Hanis
 

یونہی بیٹھے بیٹھے سوچ میں پڑ جاتی ہوں
یہ جو اپنے ہیں کیا واقعی اپنے ہیں ۔۔ ؟

Hanis
 

اپنے کپڑے اور جوتے خاص مواقع کے لیے رکھنا بند کر دیں
آج کل زندہ رہنا ہی ایک خاص موقع ہے

Hanis
 

اور ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ
اپنا اعمال نامہ کوئی بھی نہیں دیکھنا چاہتا

Hanis
 

میں یہ سمجھتی تھی جو کسی کو تکلیف نہیں دیتا ، اسے بھی تکلیف نہیں دی جاتی

Hanis
 

اگر شوخی کی عمر میں انسان کی ذات میں ٹھہراؤ آ جائے
تو زندگی کو ایک خط لکھنا چاہیے
جس میں لکھا ہو !
وہ عمر کا ایک حصہ بنا کسی معذرت کے کھا گئی

Hanis
 

میں اپنے بیٹوں کی تربیت ایسے کروں گی
جیسے ایک مرد ہونے کی خواہش میں نے کی تھی

Hanis
 

یہ سچ ہے کہ عورت میں درد سہنے کی بہت طاقت ہے
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ درد دیے جانے ہی کی مستحق ہے

Hanis
 

کوئی ہماری خاموشی کا بھی مستحق نہیں ہوتا
اور ہم انہیں احساسات کے ترجمے سنا رہے ہوتے ہیں

Hanis
 

میں جانتی ہوں میں اپنے ساتھ برا کر رہی ہوں
یقین کرو اگر میرے بس میں ہوتا
🥀تو خود کو بچا لیتی میں

Hanis
 

لوگ تو تھک کر گھر جاتے ہیں
لیکن ان کا کیا جو گھر سے تھکے ہوں ؟

Hanis
 

ہزاروں عیب نکال چکا ہے وہ مجھ میں
اس سے کوئی پوچھو جب وہ میری زندگی میں آیا تھا تو
کون سی خوبی تھی مجھ میں

Hanis
 

میں لوگوں کو خود سے بیزار کرنے میں ماہر ہوں
میری پوری کوشش ہوتی ہے کسی کو پسند نہ آؤں

Hanis
 

لوگوں نے میری تحریریں چرا کر اپنے اپنے ناموں کے ساتھ منسوب کر کے اپنی پروفائل کی زینت بنا کر خوب داد سمیٹی
مجھے ان سبھی لوگوں سے کوئی شکوہ شکایت نہیں
مگر دکھ ہے !
کوئی بھی میرے درد کو کیوں نہ چرا سکا
کوئی بھی میرے غموں کے نزدیک کیوں نہ بھٹک سکا

Hanis
 

جب ماں کو اپنے لیے اداس دیکھا
تب ماں سے باتیں چھپانا شروع کر دی

Hanis
 

زندگی کی تھکن سمیٹ لے جو
ایسا کاندھا کہاں میسر ہے

Hanis
 

ہماری مائیں ہماری خوشیوں کی منتظر ہیں
ہمارے دکھ ہیں کہ دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں