میرے ہمسفر ہے وہی سفر مگر اک موڑ کے فرق سے تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اُسے ناپتے ، اُسے کاٹتے میرا سارا وقت نِکل گیا تُو میرے سفر کا شریک ہے میں تیرے سفر کا شریک ہوں یہ جو درمیاں سے نکل گیا اُسی فاصلے کے شمار میں اُسی بے یقین کے غبار میں اُسی راہ گُزر کے حصار میں تیرا راستہ کوئی اور ہے میرا راستہ کوئی اور ہے امجد اسلام امجد💫
تو جو رِیزہ رِیزہ سے عکس میرے ہمسفر کِسی دھیان کی کِسی طاق پر ہے دھرا ہوا وہ جو اِک رشتہءدرد تھا میرے نام کا تیرے نام سے تِری صبح کا مِری شام سے سرِراہ گُزر ہے پڑا ہوا وہی خوابِ جاں جسے اپنی آنکھوںسے دیکھ لینے کے واسطے کئی لاکھ تاروں کی سیڑھیوں سے اُتر کے آتی تھی کہکشاں سرِآسماں کِسی ابرپارے کی اوٹ سے
میرے ہمسفر میرے جسم و جاں کے ہر اک رشتے سے معتبر میرے ہمسفر تجھے یاد ہیں ، تجھے یاد ہیں وہ جو قربتوں کے سرور میں تیری آرذو کے حصار میں میری خواہشوں کے وفور میں کئی ذائقے تھے گھُلے ہوئے درِ گلستاں سے بہار تک وہ جو راستے تھے کھِلے ہوئے سرِ لوحِ جاں کِسی اجنبی سی زُبان کے وہ جو خوشنما سے حروف تھے وہ جو سرکشی کا غبار تھا چار سُو جہاں اِک دوجے کے رُوبرو ہمیں اپنی روحوں میں پھیلتی کِسی نغمگی کی خبر مِلی کسی روشنی کی نظر مِلی ہمیں روشنی کی نظر مِلی"+Continued"
🪔اگر تم کسی کے راستے کیلئے چراغ جلاؤ تو اس کی روشنی تمہارے اپنے راستے کو بھی منور کر دیتی ہے۔ نیکی ہمیشہ لوٹ کر آنے والی روشنی ہے۔ جو بھلائی تم بانٹتے ہو، وہ خاموش دعا بن کر تمہارے ساتھ چلتی ہے تمہارے سفر کو سنوارتی ہے، تمہیں رہنمائی دیتی ہے، اور ان لمحوں میں بھی تمہارا حوصلہ بنتی ہے جن میں تم خود کو اکیلا سمجھتے ہو۔ 🙂
مستنصر حسین تارڑ کی کتب کی تفصیل ۔جپسی سوئٹزرلینڈ کا سفرنامہ ہے اور پیار کا پہلا شہر پیرس ۔ نکلے تیری تلاش میں یورپ ۔ چترال داستان چترال ۔ نیپال نگری نیپال ۔ ۔ہنزہ داستان ہنزہ ۔ سنہری الو کہ شہر میں بھارت ۔ کےٹو کہانی کےٹو بیس کیمپ ۔ نانگا پربت ۔ہمالیا کہ سلسلوں پہ لکھا گیا ہے سر مستنصر حسین تارڑ کا انداز تحریر بہت کمال ہے ، بہت معلوماتی اور تاریخی مواد پہ لکھتے ہیں اور بہت دلچسپ انداز ہے جو کہ قارئین کو مطالعہ کی طرف مائل رکھتے ہیں 😊،.
سوہن حلوہ کی روایت ہے کہ زمانہ قدیم میں ملتان میں ہندو بکثرت رہائش پذیر تھے ۔ ایک بزرگ لوگوں کو اسلام کی تبلیغ وتعلیم دیا کرتے تھے اور وہاں پہ سوہن حلوہ بنایا جاتا تھا ۔ جو نو مسلم ہوتے تھے ان سب کی سوہن حلوہ سے تواضع کی جاتی تھی اس طرح سوہن حلوہ ملتان کی سوغات بن گیا ۔ 🤎