قافِلے مَنزِلِ مَہتاب کی جانِب ہیں رَواں ، مِری راہوں میں تیری زُلف کے بَل آتے ہیں ، مَیں وہ آوارۂ تَقدِیر ہُوں یَزداں کی قَسَم ، لوگ دِیوانہ سَمَجھ کَر مُجھے سَمجھاتے ہیں_!!
وہ منزلیں بھی کھو گئیں,,, وہ راستے بھی کھو گئے..!!! جو آشنا سے لوگ تھے,,, وہ اجنبی سے ہو گئے..!!! نہ چاند تھا نہ چاندنی,,, عجیب تھی وہ زندگی..!!! چراغ تھے کہ بُجھ گئے,,, نصیب تھے کہ سو گئے..!!! یہ پوچھتے ہیں راستے,,, رُکے ہو کس کے واسطے..!!! چلو تم بھی اب چلو,,, وہ مہربان بھی کھو گئے..!!!