ذندگی کو تنہا_______ویرانوں میں رہنے دو وفا کی باتیں________خیالوں میں رہنے دو دل بھر جانے کے بعد___تنہا چھوڑ جاتے ہے لوگ میں تنہا ہی ٹھیک ہوں مجھے تنہائیوں میں رہنے دو
خاک کا وجود لے کہ پانی پہ رہتا ہوں موت ہے منزل میری ہر دم سفر میں رہتا ہوں
میں اب ستاروں کو اپنے دکھ سناتا ہوں ، چاند کو اپنی اذیت بتاتا ہوں۔۔
بس آخــــــری ســوال اے!!! زندگــــی یـہ مصـروف لوگ دفنانے تو آئیں گے نـہ؟
کوئ پوچھےمیری موت کی وجہ تو کہنا میں خود کوکھاگیا
بیزار۔۔۔۔بد مزاج۔۔۔۔۔۔۔انا دار۔۔۔بد لحاظ ایسے نہیں تھےجیسے تیرے بعدہوگٸے
اِس گہری اذیت میں یوں بے ساختہ ہنس کر، ہم مارتے ہیں کھینچ کے وحشت کو طمانچے_!!
میں نے ایک دم سے جانا ہے کہیں اور پھر نہیں آنا
رکھیے ذرا سنبھال کے نشتر حروف کے اپنا جگر تو آپ کے لہجے سے کٹ گیا میں ہی گراں تھا آپ کو میں ہی تھا ناگوار لیجے یہ سنگِ راہ بھی رستے سے ہٹ گیا
دائم آباد رہے گی دنیا ، ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا...
وہ مجھے چھوڑ کر نہیں وہ مجھے توڑ کر گیا ہے
گردش ایام میں اوروں کی طرح سے تو بھی تو یار میرے ساتھ نہیں ھے میں تو پڑا ہوا ہوں رحم و کرم پہ وقت کے تیرے ہاتھ میں زمانہ ھے میرا ہاتھ نہیں ھے
جو تیرے ملنے سے مرض ملا ہے اسی مرض سے مر جاوں دعا کرنا
ہم ایسے پاگل شاعر ہیں جب درد لکھ دیں تو الفاظوں کو بھی رلا دیتے ہیں
تیرے وفا کے تقاضے بدل گئے ورنہ! مجھے تجھ سے عزیز آج بھی کوئی نہیں
تیرے وفا کے تقاضے بدل گئے ورنہ! مجھے تجھ سے عزیز آج بھی کوئی نہیں