مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا کھلا ہی رہتا تھا ہر دم گلاب کی صورت مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں وہ جب بدن پہ گلوں کی قباؤں جیسا تھا یہ اس کی یاد تپاں کیوں ہے دھوپ سی وہ بے وفا تو برستی گھٹاؤں جیسا تھا--
دل ویراں ہے ، تیری یاد ہے ، تنہائی ہے زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے مرے محبوب زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں تیرے جانے سے میری جان پہ بن آئی ہے ایسا اجڑا ہے امیدوں کا چمن تیرے بعد پھول مرجھائے، بہاروں پہ خزاں چھائی ہے چھاگئے چاروں طرف غم کے اندھیرے سائے میری تقدیر میرے حال پہ شرمائی ہے
اُونچی جگہ سے گِر کر ____میں بے نشان ٹوٹا تیرے بھی ہاتھ خالی ,میرا بھی مان ٹوٹا __! خستہ دلی کا دُکھ بھی __ اپنی جگہ ہے لیکن بستی میں سب سے پہلے میرا مکان ٹوٹا __! پہلے میں سوچتا تھا زندہ ہُوں میں پھر اِک شب ایسا گمان ٹوٹا _____ایسا گمان ٹوٹا __! اک کہکشاں تھی مُجھ میں قوسِ قزح تھی ہر سُو پھر سر پہ آکے میرے ____ اِک آسمان ٹوٹا __!