کوئی ایسا وظیفہ ڈھونڈ کے دومر شد
جو میں خود پہ پھونک کے مر جاوں
دعا کیجئے میرے بھی دن بدل جائیں۔۔
زندگی خفا ہے کاش کہ انتقال کر جائیں
سبھی قہقوں سے، روگوں سے
ہائے۔۔۔ دل بھر گیا ہے لوگوں سے
اور مطمئن اس لیے ہوں کہ
دھوکہ کھایا ہے، دیا نہیں
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا،
پیالے شہد کے پیتے تلخ ایام سے پہلے ،
یہ جو ہم لکھتے رہتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے،
کہ دکھ تحریر کب ہوتے کسی الہام سے پہلے
اتنی شدت سے وہ میری رگوں میں اتر گیا
کہ اسے بھولنے کے لئے اب مجھے مرنا ہو گا
دھوپ کے دشت میں شیشے نے ردائیں دی ہیں
زندگی، تُونے ہمیں کیسی سزائیں دی ہیں
اک دعا گو نے رفاقت کی تسلّی کیلئے
عمر بھر ہجر میں جلنے کی سزائیں دی ہیں
مدتیں گزر گئیں حساب نہیں کیا
نا جانے کس کے دل میں کتنے رہ گئے ہم!
قربت ،، اگرچہ نہیں ملی مجھے ؟؟
جانے ،، خدشہ کیوں ہے جدائی کا !!
کس طرح تیرے فہم میں آئے ہمارا دکھ
تُو نے کبھی کسی کو گنوایا تو ہے نہیں
یہ دَور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تَلے
سبھی کو بزم میں دیکھو ' مگر دِکھائی نہ دو
جواب ِ تُہمت ِ اَہل ِ زمانہ میں ' خُورشیدؔ !
یہی بہُت ہے کہ لب سی رکھو ' صفائی نہ دو !
دستو ر ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاؤ
ہم کس سے ملیں کس سے کہیں عید مبا رک۔
دِل رکھنے کیلئے ہی ، کہہ دیجئے ذرا
میں جانتا ہوں آپ سے، آیا نہ جائے گا
بروزِ عید کوئی پُوچھے ، جو آپکا حال
میں رو پڑوں گا یار ، بتایا نہ جائے گا
یہ عید کیا شفقتؔ، ہر تہوار آپکے بغیر
گُزارا تو جائے گا ، منایا نہ جاے گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain