نہ دید ھے نہ سخن ، اب نہ حرف ھے نہ پیام کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں اور آس بہت ھے اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ھے
لے جا تو سبھی کچھ تجھے دیتا ہوں اجازت گر تیری نظر میں ہے یہ دستار ، ؟؟ خبردار ہم عشق کے ماروں کا تمسخر نہ اڑاؤ ہم یوں بھی ہوئے بیٹھے ہیں بیزار ، خبردار Bye HS
بکھرتے رابطوں کا ہے ، بچھڑتے راستوں کا ہے دسمبر نام ہے جس کا مہینہ حادثوں کا ہے
لفظ سے بھی خراش پڑتی ہے تبصرہ سوچ کر کیا کیجئے جھوٹ سے بھی برا ہے آدھا سچ اس سے بہتر ہے چپ رہا کیجئے (Bye HS)
لفظ سے بھی خراش پڑتی ہے تبصرہ سوچ کر کیا کیجئے جھوٹ سے بھی برا ہے آدھا سچ اس سے بہتر ہے چپ رہا کیجئے
"فاتحہ پڑھنے بھی مت آنا یہ حق بھی کھو چکے ہو تم"
میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
کون تھاوہ؟ جس نے یہ حال کِیا ہے تیرا؟ کِس کو اِتنی آسانی سے مُیّسر تھا تُو؟ _!!
ہمیشہ زَخمِ دِل پَر، زہر ہی چھڑکا خیالوں نے! کَبھی ان ہَمدموں کی جیب سے مَرہم نہیں نِکلا
ہائے دل کانٹوں پے چل رہا ہے میری نس نس میں غم پل رہا ہے تیری یادوں کی نوکیں، ہیں چبھتی دھڑکنوں میں خلل پڑ رہا ہے
ممکن ہے وہ شخص میری تکلیف پہ ذرا سا تڑپے میں ہوں بیمار ----------- یہ اسے بتا دے کوئی
زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے. ڈھونڈ پائے تو کبھی ڈھونڈ ہمارے جیسے. کرچیاں چنتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے. کوئی دیکھے تو سہی خواب ہمارے جیسے.
ابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کی ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
اب میں سارے جہاں میں ہوں بدنام اب بھی تم مجھ کو جانتی ہو کیا؟؟؟
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب یہاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
اک زخم جو میرے لیئے کعبے کی طرح ہے ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں!