عجیب کیا ہے جو اکتا رہے ہو مجھ سے تم!! میں آج کل تو سبھی کو اضافی لگتا ہوں!! مرے رقیب، تیری طرح مطمئن تھا میں!! مجھے بھی لگتا تھا اس کو میں کافی لگتا ہو
تجھے نا آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ... میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں بات سمجھ!!! میرے علاوہ ہیں چھ لوگ منحصر مجھ پر... میری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ!!!
Kisi k aib ko be niqaab na kr... khuda hisaab kre ga tu hisaab na kr... Buri nazar se na dekh mujhe dekhne wale... Me lakh bura sahi tu apni nazar khrab na kr
اب کیا خلاصہ بتائیں اپنی حالتِ زار کا تم کو کہ ہم ایسے ہیں جیسےجلے ہوۓ خط ہوتے ہیں مجھے یقیں تھا وہ واقف مرے احساس سے ہے پھر اُس نے بتایا کہ اندازے غلط ہوتے ہیں
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ
فطرتاً تنکا ہوں، بنتا ہوں سہارا جس کا.! وہ ڈبو کر مجھے، خود پار چلا جاتا ہے..!! غم کی تشہیر سے ہم نے یہ سبق پایا ہے.! غم وہیں رہتا ہے، غم خوار چلا جاتا ہے..!!