اک زخم جو میرے لیئے کعبے کی طرح ہے
ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں!
تجھ کو کھونے کے خدشوں میں
خود کو کھودیا ہے میں نے
موت نے آ کر____مجھے بچانا ہے
میری قبر کے کتبے پہ شکریہ لکھنا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے میرے ہر بیاں میں کیا ؟
یوں تو نا مسکرا میری بے بسی پے
چند الفاظ جو بولوں تو رو دو گے
میرا ظرف سمجھو یا میری ذات کا پردہ
میں جب سے ٹوٹا ھوں خاموش رھتا ھوں
سچے کو ہمیشہ جھوٹے سے
زیادہ صفائیاں دینی پڑتی ہیں
اور پھر ایک دن میرے لیے
ساری محبتیں جاگ اٹھیں گی
میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں
تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
کیا کہا؟ اپنوں سے امید رکھتے ہو
پاگل ہو؟ قصہء یوسف نہیں سنا؟
جی بھر کے بات کر لو مجھ سے
میں بہت جلد چپ کی چادر اوڑھنے والا ہوں
مجھے جی بھر کے دیکھ لو لوگوں
میں پھر دفن ہو جانے والا ہوں
اچھا تو میں اب چلتا ہوں سفرِ آزاد پر
کوئی میرا پوچھے کہہ دینا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا
میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں
تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
بھیڑ میں بھی مل جائوں گا آسانی سے ،،
کھویا کھویا رہنا، نشانی ہے میری ،،
محسوس کیجئے جذبات کو __!!
آپ کی واہ سے متاثر نہیں ہوں میں _
کون تکتا ہے کسی لیلٰی کو مثلِ مجنوں
اب یہاں اہلِ محبت ہیں کے زر دیکھتے ہیں
جن کی فطرت میں ہو رخصت کا ارادہ مری جاں
کون کہتا ہے وہ پھر لَوٹ کے در دیکھتے ہیں
کبھی جو گزر ھو تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
میرے دل میں ادھوری چاہتوں کا عرس لگتا ہے
زہر دیتا ہے کوئی کوئی دوا دیتا ہے
جو بھی ملتا ہے مرا درد بڑھا دیتا ہے
کس نے ماضی کے دریچوں سے پکارا ہے مجھے
کون بھولی ہوئی راہوں سے صدا دیتا ہے
نقشؔ رونے سے تسلی کبھی ہو جاتی تھی
اب تبسم مرے ہونٹوں کو جلا دیتا ہے
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زِندگی
ہم ایسے سادہ دِل تھے کہ ہر بار آگئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain