خنجر تھا تحہِ دست جب بڑھایا اسنے ہاتھ ہم کہ نادانی میں بڑھتی ہوئی کلائی سمجھی ہم جان بھی دے سکتے ہیں جب جان گیا وہ سو اسنے جان ہی لینے میں بھلائی سمجھی
شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں... جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی...
انسان کا خود پہ کیا جانے والا سب سے بڑا ظلم محبت ہے
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں آخر میرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
وقت سے پہلے بہت حادثوں سے لڑا ہوں میں اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہوں
میں متفق ہوں تیری تمام باتوں سے ___! بہر حال یوں دل توڑا نہیں کرتے ___! عشق ایک ہی شخص سے حلال ہوتا ہے ___! ہر ایک سے تھوڑا تھوڑا نہیں کیا کرتے ___!
الفاظ میں کہاں آتی ہے کیفیت دل کی محسوس جو ہوتا ہے بتایا نہیں جاتا
وقت سے پہلے بہت حادثوں سے لڑا ہوں میں اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہوں
اور پھر ایک دن میرے لیے ساری محبتیں جاگ اٹھیں گی
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں یوں بھی مَیں ہٹ گیا ہوں منظر سے
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ
میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
جی میں آتا ہے سب چھوڑ دوں ایک شب اور کمرے میں کہیں لکھ دوں معزرت
جب تم ہی میرے مقابل ہو تو فتح کیسی جاؤ ہم ساری خوشیاں وار گئے، ہم ہار گئے
میں نے ایک شخص جیت کر ہارا اب مجھے کھیل کے میدان برے لگتے ہیں
حسرتیں روگ بن گئیں مرشد لوگ ذہنی مریض کہتے ہیں اب
اور پھر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ سانس لینا وبال لگتا ہے