وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرار محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
کہ لطف کیا ہے میرے مہرباں، ستم کیا ہے
درد اٹهتا ہے تو تصور میں آجاتے ہیں وہ
خدا میرے درد کی عمر دراز کرے
لہجے بدل رہے ہیں الفاظ بدل رہے ہیں
آہستہ آہستہ ان کے انداز بدل رہے ہیں
اپنے اصول کچھ اس طرح سے توڑے ہم نے
غلطیاں نہیں تھی پھر بھی ہاتھ جوڑے ہم نے
آواز نہیں آئی لیکن خدا کی قسم
غور تو کیجیے دل ٹوٹ گیا ہے
قتل ہوےَ ہـم اسـں طـرح قسطــوں میں
کھبی خنجـر بدل گئے کبھی قاتل بدل گئے