مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے
دلِ مایوس میں وه شورشیں پیدا نہیں ہوتی ..
اُمیدیں اس قدر ٹوٹی کہ اب پیدا نہیں ہوتی ..!
محوِ رقص ہے محبت جُنوں کی وادی میں
مُقامِ عشق میں بس اعضاء کلام کرتے ہیں
میں متفق ہوں تیری تمام باتوں سے ___!
بہر حال یوں دل توڑا نہیں کرتے ___!
عشق ایک ہی شخص سے حلال ہوتا ہے ___!
ہر ایک سے تھوڑا تھوڑا نہیں کیا کرتے ___!
امجد وہ سانحہ تو اسے یاد بھی نہیں...
جو ہم نے عمر بھر کی نشانی بنا لیا...
موت نے آ کر____مجھے بچانا ہے
میری قبر کے کتبے پہ شکریہ لکھنا
رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا
اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے
اک زخم جو میرے لیئے کعبے کی طرح ہے
ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں!
اس نے چلتے چلتے لفظوں کا زہراب
میرے جذبوں کی پیالی میں ڈال دیا
یہ ہم جو تجھے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں...
ایسے تو چلی جائے گی بینائی ہماری..!
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ
میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ
میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ
میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ
کَہیں تہذیب ڈَھل جانے کا ماتم ہو رہا ہے ، تو
کہیں شام و سَحر تخلیقِیَت پہ بات ہوتی ہے
کہیں طرزِ ادا ، اُسلوب و نُدرت، رنگ آمیزی
کہیں برعکس صُورت ، بےتکلُّف رات ہوتی ہے
کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس ملال
پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا۔
پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا۔
پھر یوں ہوا کے رفتہ رفتہ ہوگئی بے معنی
میری بات بھی.. میری ذات بھی
ہر شمع بجھی رفتہ رفتہ ہر خواب لٹا دھیرے دھیرے
شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا،دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیر
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ
میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ
میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ
میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain