رہ گئی زِندگی ، دَرد بن کے
دَرد دِل میں ، چُھپائے چُھپائے
دِل کی نازک ، رَگیں ٹُوٹتی ھیں
یاد اتنا بھی ، کوئی نہ آئے۔
غم شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
بچھڑتے وَقت قسم لی تھی زِندہ رہنے کی
تو گویا جانتا تھا اِتنا دَرد ہو گا مجھے!
اور کیا ہو گا بھلا سینے میں دل کا مصرف؟
بس اِسی واسطے رکھا ہے کہ دُکھایا جائے!
چاندنی رات کو جنگل میں ڈراتے سائے
ہم نے دیکھے ہیں تری سمت سے آتے سائے
میں نے کاٹی ہیں ترے ہجر کی لمبی راتیں
تو نے دیکھے ہیں کبھی جسم کو کھاتے سائے ؟
اشک بہہ بہہ کے مرے خاک پہ جب گرنے لگے
میں نے تجھ کو تیرے _دامن کو بہت یاد کیا
قید میں رکھا ہمیں اُس نے یہ ہی کہہ کہہ کر
کہ ابھی آزاد کیا ___بس ابھی آزاد کیا--!!!
لوگ تھک ہار کے آتے ہیں گھروں کو جِس دَم
عَین اُسی وَقت مجھے دِل سے نِکالا اُس نے
حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں
اور تو سب کچھ تھا لیکن رسمِ دل داری نہ تھی
کب تلک کوئی کرے حلقۂ زنجیر میں رقص
کھیل اگر دیکھ لیا ہو تو اجازت دی جائے...
جو آنا چاہو ھزار رستوں نا آنا چاہو تو عذر لاکھوں
مزاج برہم طویل رستہ برستی بارش خراب موسم
اب اکیلے اکیلے رہنا سیکھ لیا
دل کی باتیں خود سے کہنا سیکھ لیا
مجھے کسی کے کندھے کی ضرورت نہیں
تنہا تنہا چپکے چپکے رونا سیکھ لیا
اپنے گزرے ہوۓ ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بیکار تمناہوں پہ شرمندہ ہوں میں
کبھی خواہشوں نے لوٹا کبھی بے بسی نے مارا
گلہ موت سے نہیں ہے ہمیں زندگی نے مارا
شکست کھا کے بھی توہین زندگی نہ ہوئی
ہزار کام ہوۓ, ہم سے خود کشی نہ ہوئی
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
Aye ishq hamein barbaad na kar, barbaad na kar
Ay ishq na chera akay hamein
Hum bhulay huoo ko yad na kar
Peheley he bohot nashad hai hum
Tu aur hamein nashad na kar
Kismat ka sitam hee kum naheen kuch
Ye taza sitam ejaad na kar
Youn zulm na kar beydad na kar
Aye ishq hamein barbaad na kar, barbaad na kar
Raaton ko uth uth kar rotein hai
Ro-ro ke dua-yen kartey hai
Aankhon mai thusavur dil mai khalish
Sar dhundh te hain anhen bharte hain
Aye ishq ye kaisa rog laga
Jeetay hai na zalim marte hai
In khwabo say yoon azad na kar
Aye ishq hamein barbaad na kar, barbaad na
ظالم کو زمانے کی بد دعا مارتی ہے
مغرور کو اپنی ہی انا مارتی ہے
ایسا مرض الموت ہے یہ عشقِ مجاز
بچ جائے جو روگی تو شفا مارتی ہے
یوں ہی نہیں مرتے یہ مشہورِ جہاں
ان کو تو محبت میں وفا مارتی ہے
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ھم تجھ سے دُور اور ترے آس پاس لوگ !
یُوں کب تلک جئیں گے بھلا ھم اُداس لوگ
مطلب نہ ھو تو کیسے ملیں اور کیوں ملیں ؟
ھم جیسے عام لوگوں سے تُم جیسے خاص لوگ
اعلانِ مرگ ہوا تو اس نے بھی کہا محسن
اچھا ہوا مر گیا اکثر اداس رہتا تھا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain