چیزیں وہ نہیں ہوتی جو دکھائی دیتی ہیں
آپ مجھے اتنا ہی جان سکتے ہیں
جتنا میں چاہوں . . . . جیسے میں چاہوں ۔
شب ہجراں اور روگ پسند ہیں
یکطرفہ محبت کے جوگ پسند ہیں
تم بھی اگر اداس ہو تو آ جاؤ
مجھے اپنے جیسے لوگ پسند ہیں۔
فقط موت رہ گئی ہے باقی
اور تو سبھی اذیتیں گزر گئیں
_______"
اس نے چلتے چلتے لفظوں کا زہراب
میرے جذبوں کی پیالی میں ڈال دیا
اچھا موقع ہے رخصت ہونے کا”
“سخت بیمار ہوں دعا کیجیے گا
میری محبت نہ سہی شاعری کی تو داد دے”
“!..روز تیرا ذکر کرتا ہوں تیرا نام لیے بغیر
میرے لفظوں کی تعریف کرتے ہو”
“میرا دکھ نہیں پوچھو گے ۔۔۔؟؟
کچھ تلخ حقیقتیں تھی اتنی”
“کہ خواب ہی سارے ٹوٹ گئے۔۔۔۔۔
ضبط کی آخری منزل پہ کھڑا شخص ہوں میں”
”…اس سے آگے میری آنکھوں نے پگھل جانا ہے
چار دن آنکھ میں نمی ہو گی۔۔۔۔”
“ہم مر بھی گئے تو کیا کمی ہو گی۔۔
تماشا دیکھ رہے تھے جو موت کا.
. میری تلاش میں نکلے ہیں کشتیاں لے کر
دستک اور آواز تو کانوں کے لئے ہے
جو روح کو سنائی دے اسے خاموشی کہتے ہیں
موت کے درندے میں اِک کشش تو ہے
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خُودکشی کے بارے میں
اسے کہنا ہم ازل سے اکیلے رہتے ہیں
تم نے چھوڑ کر کوئی احسان نہیں کیا
چھوڑ دو مجھے تنہائی میں
رابطے اب عذاب لگتے ہیں
شدت غم سے سلگ اٹھتی ہے جب رات لوگ
اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
ہمیشہ ساتھ رہنے کے بات کرتا تھا،
وہ جس کو خبر نہیں اب میری!
دل کو پانی میں رکھ دیا میں نے
آگ جیسی تھیں خواہشیں اس کی
وہ نہیں، تو کون دیکھے گا ہمیں!!!
شہر میں کیوں بن سنور کر جائیے!!!
دل کی خاطر زندہ رہئیے کب تلک؟؟؟
دل ہی کہتا ہے کہ اب مر جائیے!!!
موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی
ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain