عجب سال ہے, نہیں ایک پل بھی پرسکون لکھ لکھ کر تھک گے انّ للّہٰ وانّا الیہ راجعون
ان سے آواز کرب آتی ہے زرد پتوں پہ مت چلے کوئی
یاد رہے گا دور حیات بہت ترسے تھے اک شخص کو ہم
جو آنا چاہو ھزار رستوں نا آنا چاہو تو عذر لاکھوں مزاج برہم طویل رستہ برستی بارش خراب موسم
تیرے بعد پھر ہر شخص فریبی لگا مجھے تیرے بعد پھر اس دل کو کسی پے اعتبار نہ ہوا
مِرے حادثاتِ حیات میں تِری کائنات کی خیر ہو کہ یہ اِرتِعاشِ نَظَر مِرا تِرے آسماں کو گِرا نہ دے
موت نے آ کر____مجھے بچانا ہے میری قبر کے کتبے پہ شکریہ لکھنا
ہر شمع بجھی رفتہ رفتہ ہر خواب لٹا دھیرے دھیرے شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا،دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیر
غرورِ عشق کی دیمک لگی مِرے فن کو سراہے جانے کی خواہش نے مار ڈالا مجھے!
صرف کافور کی خوشبو رہ جاۓ گی چار سو تیرے پہنچنے سے پہلے دفنا دیا جاۓ گا مجھے
خود کو مغالطے میں رکھا ہے تمام عمر دنیا تمھارے ساتھ تو دھوکا نہیں کیا لوگوں کو جانے مجھ سے شکایت رہی ہے کیوں میں نے تو اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا
میرا دل کرتا ہے شدید بیمار ہو جاؤں اسے پتا بھی نہ چلے اور میں مر جاؤں إنا لله وإنا إليه راجعون
ایسی وحشت ہے مرے دل میں کہ ہر شے توڑوں اور پھر چیخوں کہ دیکھو ، ایسی حالت ہے میری ایک نوخیر کلی پاؤں میں پھینکوں ، مسلُوں اور پھر روؤں کہ سمجھو ، یہ اذیت ہے میری
مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں
نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
شرمنده ہوں کہ موت بهی آتی نہیں مجهے اب تم ہی میرے حق میں کوئی بدعا کرو
کبھی فرصت میں بتاؤں گا جو معاملے مجھے کھا گئے