جینا پڑتا ہے کبھی #ظرف سے کمتر ہوکر بھیک دریاؤں سے مانگی ہے سمندر ہو کر ہاں یہ تصویر کبھی بات کیا کرتی تھی دیکھتی رہتی ہیں آنکھیں جسے پتھر ہوکر میرا اس عشق میں نقصان ہوا ہے کتنا خود سے محروم ہوئے تجھ کو میسر ہوکر
ھم تجھ سے دُور اور ترے آس پاس لوگ ! یُوں کب تلک جئیں گے بھلا ھم اُداس لوگ مطلب نہ ھو تو کیسے ملیں اور کیوں ملیں ؟ ھم جیسے عام لوگوں سے تُم جیسے خاص لوگ
عشق ریشم سے بُنی شال ہے، آہستہ چُھو ایک دھاگہ جو کُھلے، شال اُدھڑ جاتی ہے... آپ پوشاک اُدھڑنے پہ ہیں گھبرائے ہوئے...؟ صاحب ! عشق میں تو کھال اُدھڑ جاتی ہے..
اُن کو نامُوس بھی، عزّت بھی، پزیرائی بھی مجھ کو رونے کو میسّر نہیں۔۔۔۔تنہائی بھی اپنے ہی حال پہ ہنسنا،،،کبھی ہنس کے رونا میں بیک وقت تماشا بھی ہوں، تماشائی بھی۔