برس رہی ہے، حریمِ ہوس میں دولتِ حسن
گدائے عشّق کے کاسے میں اِک نظر بھی نہیں
یہ عہد ترکِ محبت، ہے کِس لیے آخر
سکونِ قلب اِدھر بھی نہیں اُدھر بھی نہیں
Main jaanti hon khudkushi haraam hay
... HS...
Is liyay haadson ki talash main hon
عید کی عین پہ بھاری ہے اُداسی کا الف۔
تُو مرے قہقہے مت دیکھ، اداکاری دیکھ۔
غیروں میں ہیں جو شاد ، انہیں عید مبارک
جن کو نہیں ہم یاد ، انہیں عید مبارک
معصوم سے ارمانوں کی معصوم سی دُنیا
جو کر گئے برباد انہیں عید مبارک
غم ہی غم ہیں امید میں کیا رکھا ہے
عید آیا کرے اب عید میں کیا رکھا ہے
مجھے چھوڑ دے میرے حال پر
تیرا کیا بھروسہ اے اجنبی
تیری مختصر سی نوازشیں
میرا درد کہیں بڑھا نہ دی
اب اسے فرصت احوال میسر ہی نہیں
وہ جو ہمدرد تھا ہمدرد بھی ایسا ویسا
کیا تجھے ہجر کے آزار بتائے
تو تو بے درد ہے بے درد بھی ایسا ویسا
ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں تھے جانِ فراز
کہ تجھ کو ساری خدائی کے بعد یاد آئے
خاک وعدوں پہ ڈالتے جاؤ
تم ہمیں روز ، ٹالتے جاؤ
ہو گیا خاک، چاہنے والا
آؤ ! مٹیّ تو ڈالتے جاؤ
تیرے نام کا تارا جانے کب دکھائی دے۔۔
اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتےہیں۔۔۔۔
ذرا بھی فرق نہیں، صبح، شام ایک سے ہیں
تمہارے ہجر کے موسم، تمام ایک سے ہیں
جفا خرید، اداسی اٹھا، کہ وحشت لے
بروئے عشق سبھی کے ہی دام ایک سے ہیں
تم جو ہوتے کبھی ساتھ نبھانے والے
محبتوں میں ہمارا قصہ مثال ہوتا
چلو یہ اچھا ہوا نیند لے گیا ورنہ
تیرا خیال میری جان بھی لے سکتا تھا
اُس نے جانے کی اجازت چاہی
ساری خوشیوں نے الوداع بولا
وفا کا لازمی تھا یہ نتیجہ
سزا اپنے کیے کی پا رہا ہوں
ہم بہت رنج و الم سہتے ہیں...
تب کہیں جا کے غزل کہتے ہیں...
جو آنا چاہو ھزار رستوں نا آنا چاہو تو عذر لاکھوں
مزاج برہم طویل رستہ برستی بارش خراب موسم