تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے واسطے
ہمیں رقیب منانا پڑے گا ۔۔۔۔۔ حیرت ہے.
میں ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہا دواؤں سے.
تمہیں بھی یار بتانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ حیرت ہے
مُجھے خبر نہ ھوئی__، کیا تلاش تھی اُسکی..
جو میری ذات کے__، صفحے پلٹ گیا، یونہی..
کن کن بلندیوں کی تمنا تھی عشق میں
طے ہو سکا نہ ایک بھی زینہ تیرے بغیر
تُو آشنائے شدتِ غم ہو تو کچھ کہوں
کتنا بڑا عذاب ہے جینا تیرے بغیر۔۔!!!
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے
بدگماں هے تو، وضاحت_____ نہیں دینی میں نے
جان دینی هے مگر، اذیت____ نہیں دینی میں نے
آج اداسی هے میرےدل میں، اتر آنکھ میں جھانک
کل تجھے اس کی بھی، اجازت نہیں دینی میں نے۔
عجب سال ہے, نہیں ایک پل بھی پرسکون
لکھ لکھ کر تھک گے انّ للّہٰ وانّا الیہ راجعون
تم وہ پتھر ہو جسے چوم رہی ہے دنیا
ہم وہ کنکر ہیں جو ابلیس کو جا لگتے ہیں
تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے واسطے
ہمیں رقیب منانا پڑے گا ۔۔۔۔۔ حیرت ہے.
میں ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہا دواؤں سے.
تمہیں بھی یار بتانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ حیرت ہے
آ، تُو بھی حِصّہ ڈال دے اس کارِ خَیر میں
آ، تُو بھی پاؤں رکھ دے دلِ پامال پر
پاؤں رکھنے پر چیخ اٹھتے ہیں ،!!!!!!!
خشک پتوں میں بھی کتنی اناء ہوتی ہے ۔۔ !!
اشک بہہ بہہ کے مرے خاک پہ جب گرنے لگے
میں نے تجھ کو تیرے _دامن کو بہت یاد کیا
قید میں رکھا ہمیں اُس نے یہ ہی کہہ کہہ کر
کہ ابھی آزاد کیا ___بس ابھی آزاد کیا--!!!
باتیں تو بہت کیں در و دیوار سے میں نے
پر خود کو گرایا نہیں معیار سے میں نے
ایسا بھی ترا تیر نشانے پہ نہیں تھا
بس خود کو بچایا ہی نہیں وار سے میں نے
آنکهيں جُھوٹ، نَظارا جُهوٹ، يَعنی جُو ہے سَارا جُھوٹ.
ہَـمیں جُو آج پِـھر کَہو اَپنا، بُـولـو آج دُوبَاره جُهوٹ"
تبدیل کرگیا مرے جینے کے ڈھنگ سب
اذنِ وفا کے جرم میں وہ تاب لے گیا
پھر یوں ہوا کہ حوصلے سب پست ہو گئے
اک شخص جینے کے سبھی اسباب لے گیا۔
خنجر تھا تحہِ دست جب بڑھایا اسنے ہاتھ
ہم کہ نادانی میں بڑھتی ہوئی کلائی سمجھی
ہم جان بھی دے سکتے ہیں جب جان گیا وہ
سو اسنے جان ہی لینے میں بھلائی سمجھی
ہر شمع بجھی رفتہ رفتہ ہر خواب لٹا دھیرے دھیرے
شیشہ نہ سہی، پتھر بھی نہ تھا،دل ٹوٹ گیا دھیرے دھیر
موت نے آ کر____مجھے بچانا ہے
میری قبر کے کتبے پہ شکریہ لکھنا
نہ جانے کیوں آ ج میرا ضبط ٹو ٹا
تیرا نام لیا۔۔۔ اور بہت روئے
میر ے ہونٹوں سے مہکتے ہوئے لفظوں پہ نا جا۔۔۔
میرے دل میں ہر طرح کے زخم ملتے ہیں۔۔۔
میرے چہرے پہ دکھاوے کا تبسم ہے مگر۔۔۔
میری آنکھوں میں اداسی کے دیے جلتے ہیں۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain