تم نے دیکھا ھے کبھی ایک نظر شام کے بعد ۔۔
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد۔۔
اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں لاعلم ۔۔۔۔
چھوڑ جائیں گے کسی روزِ یہ نگر۔۔۔ شام کے بعد۔۔۔
ایسے ویسے یہاں افلاک لیے پھرتے ہیں
دامنِ زیست میں ہم خاک لیے پھرتے ہیں
لوگ ہر روز بدلتے ہیں ____تعلق کا لباس
اور ہم ایک ہی __ پوشاک لیے پھرتے ہیں
پتہ نہیں ہوش میں ہوں یا بے ہوش ہوں...
مگر بہت سوچ سمجھ کر خاموش ہوں...
کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کو
کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں
یہ مانا کہ تم سے خفا ہیں زرا ہم
مگر زندگی سے بھی روٹھے ہوئے ہیں
ہم تھے ٹھہرےہوے پانی پہ کسی چاند کا عکس
جس کو اچھے بھی لگے اس نے بھی پتھر پھینکا
bye hs
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
موت دیکھتی ہی رہ گئی
زندگی نے ہی مجھے مار دیا
InshaAllah soon
تم نے آنا ہو تو چلے آنا بہت آسان پتہ ہے میرا
تحتی لگی ہو گی میرے نام کی اور مٹی کا ڈھیر ہو گا
تم نے دیکھا ھے کبھی ایک نظر شام کے بعد ۔۔
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد۔۔
اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں لاعلم ۔۔۔۔
چھوڑ جائیں گے کسی روزِ یہ نگر۔۔۔ شام کے بعد۔۔۔
زندہ رہا تو کرتا رہوں گا تم سے عشق
ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں مجھے مار دیجئے
اعلان کچھ یوں ہوگا میرا مسجد میں
حضرات مرا ہوا شخص آج انتقال کر گیا
InshaAllah
بے اعتبار وقت پہ جھنجھلا کے رو پڑے
کھو کر کبھی اسے تو کبھی پا کے رو پڑے
خوشیاں ہمارے پاس کہاں مستقل رہیں
باہر کبھی ہنسے بھی تو گھر آکے رو پڑے
کب تلک کسی کے سوگ میں روئیں گے بیٹھ کر
ہم خود کوکتنی بار یہ سمجھا کے رو پڑے!