ہمیشہ مجھ کو عید سے یہی پیغام ملتا ہے
کوئی قربان ہوتا ہے کسی کی عید ہوتی ہے۔
معافی چاہتا ہوں آج الفاظ نہیں ملے
درد لکھ دیا ہے محسوس کر لیجئے گا
کیا واقعی اتنا معمولی سا ہوں مرشد
کہ مجھے کھو کر وہ پچھتایا بھی نہیں
“ضدی ہے مگر تھک جائے گا
اک لڑکا دکھ سہتے سہتے مر جائے گا
*دھیان کوئی نہیں دیتا دھڑکتے دل پر _
*اعلان تین بار بڑے غور سے سنا جاتا ہے...
اختلاف جہاں کا _____رنج نہ تھا ۔۔۔
دے گئے مات ___ھم خیال ہمیں ۔۔۔
شمع کے جلنے پر ہم افسوس کریں کیوں
ہم نے بھی مانندِ شمع خود کو جلایا بہت
ہم نے جس کسی کو بھی ہمدرد سمجھا
وہ ہمارے دکھ پہ نہ جانے کیوں مسکرایا بہت
اِس گہری اذیت میں یوں بے ساختہ ہنس کر،
ہم مارتے ہیں کھینچ کے وحشت کو طمانچے_!!
ایسے کیسے... بھلا دوں تجھ کو..!!!!
تُو تو میری ذات کا... مکمل دکھ ہے..!!!
اُس کے قابل نہیں تھے ہم ،:سو ہم نے پھر.....
آنکھ پونچھی ، درد سمیٹا ، دل اٹھایا ،:کوچ کیا
میں ہوں امتحان میں اضافی سوال جیسا
جو یاد بھی ہو تو خود چھوڑ دیا جاتا ہے
اسے اذیت سے نکلنے کی کوئی راہ نہ ملے گی
یونہی کوئی روگ اسکے دل کو بھی اگر لگ جائے
خدا کرے پہلے میری یاد آسکے دل میں بس جائے
پھر اس پہ سزا یہ کہ اسے میری بھی عمر لگ جائے
دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا
میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا
پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے
پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا
واسطہ پڑے تو کردار کھلتے ہیں
باتوں سے تو ہر شخص فرشتہ لگتا ہے
بڑے بے حس لوگ ہیں تیری کائنات میں
میں درد لکھتا ہوں، واہ واہ کرتے ہیں
جب تک خود پر نہ گزرے لوگوں کو ہمارے احساس اور جذبات مذاق لگتے ہیں
فقط اس کے علاوہ مجھے ہر ایک سے الجھن ہے۔
مسلسل سوچ کی چوٹوں سے دیکھو !
یہ میرا جسم چھلنی ھو گیا ھے !
تم پر اتری ہی نہیں ہجر کی اندھی راتیں
تم نے دیکھا ہی نہیں چاند کا کالا ہونا
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں ، خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain