عشق میں ہارا ہوا ہوں کامرانی کچھ نہیں
میرے حصہ میں صنم کی مہربانی کچھ نہیں
چھوڑ کر تتلی گئی ہے جب سے دل کے باغ کو
دل میں بس ویرانیاں ہیں رت سہانی کچھ نہیں
کشتی سے بچھڑا جو دریا اب تلک صدمے میں ہے
جم گئی ہے برف اس میں اور روانی کچھ نہیں
سر گزشت زندگی لکھنے کا آیا تھا خیال
ایسے کچھ یاد آئے اور قلم رکھنا پڑا
فنا ہو گئی ہے ذات کسی کی ذات میں کب سے
ہم جو نظر آتے ہیں فقط وہم ہےآپ کو
فلک دیکھ کر مسکراتا ہوا شخص
کسی روز کمرے سے مردہ ملے گا
تم بھی جھیلو گے کبھی عشق میں فرقت کا یہ دکھ
تم بھی دیکھو گے کبھی چھوڑ کے جاتا ہوا شخص
آنسوں کی ضمانت بھی جہاں کام نہ آئی
وہ شخص لفظوں کا یقین کیا خاک کرے گا؟
خلوت گزیں رہے ہیں تصور میں اس قدر
معلوم ہوں گے حشر میں بھی اجنبی سے ہم
اس کا گواہ کون ہے یارب ترے سوا
مرتے ہیں ہجرِیار میں کس بے کسی سے ہم
ہر محفل میں اپنی شاعری سنائے جاتا ہوں
ایسے میں ہر کسی کو ستائے جاتا ہوں۔
ہمیں درد دینے کا تجھے بھی شوق تھا بہت۔
اور پھر دیکھ ہم نے بھی سہنے کی انتھا کردی
وہ میرے پاس رہ کر بھی پاس نہیں تھا
مجھے محبت تھی اور اسے احساس نہیں تھا
اس کے چھوڑ جانے پر یہ معلوم ہوا مجھ کو
میں اس کو تو کیا خود کو ہی راس نہیں تھا
یہ دکھتی رگ ہے میاں یہ سوال مت پوچھو
ہم اہل ہجر سے لطف وصال مت پوچھو
کہا نا ٹھیک ہوں, ہاں ٹھیک ہوں, کہاں تو ہے
میں رو پڑوں گا میری جان حال مت پوچھو
جس سے افسانہ ہستی میں تھا تسلسل کبھی
اس محبت کی روایت نے بھی دم توڑ دیا
تم میری اذیت کی وہ حد ہو
جسے میں سوچ کے رو پڑتا ہوں
جب وہ چھوڑ گیا تب دیکھا اپنی آنکھوں کا رنگ
حیران الگ پریشان الگ سنسان الگ بیان الگ
میں خود بھی تو ہوں اپنے آپ کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں ہے
وہی حیثیت ہے مِری اُس کے دِل میں
خُدا کی نظر میں جو ابلیس کی تھی
ہم نے بھی اپنے بخت پہ پڑھ لی ہے فاتحہ
اے عشق تو بھی جا کے جہنم رسید ہو
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے "
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے_! -
سچ ہے کوئی بھی شریکِ دَرد و غم ہوتا نہیں
ہو گئے احباب رخصت مجھ کو سمجھانے کے بعد
کون روتا ہے کسی کی خستہ حالی پر
زیرِ لب ہنستی ہے دُنیا، میرے لُٹ جانے کے بعد...!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain