منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے میں نے یہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا
کیا بتائوں کے مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا ہوںمیں
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے... جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے...
خیال و فکر کی سچائیاں بھی شامل ہیں میرے لہو میں میرے شجرہ نسب کی طرح
اک دستِ رفو کار جو یکتا تھا ہنر میں بے بس ہے مرے دامنِ صد چاک کے آگے بے کار ہے اس دورِ اذیت میں یہ گریہ تجھ جیسے کسی ظالم و سفاک کے آگے.
یہ کیسی محبت نبھاٸی تُونے مُجھ سے 🥺 مَیں بھری جوانی میں مُوت کی خواٸش پالے بیٹھاں ہو 🥀
میرا بس نہیں چلتا... میں باتیں چھوڑ دوں کرنی... میں خوابوں کو زہر دے دوں... میں آنکھیں نوچ لوں اپنی...
یہ دکھ نہیں اندھیروں سے صلح کی ہم نے, ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں۔
مل جائیں گے_بہت سے تجھے مصلحت پسند ! مجھ سے نہ سر کھپا کہ بہت سر پھرا ہوں میں !
جتنا ہنسنا تھا ، ہنس چکے ہم لوگ اب تماشہ ء کُن تمہارے لیے...!! ہم بہت خوش مزاج تھے ، نہ رہے سورۃِ فاتحہ ہمارے لیے.
یہ بھی عجیب دکھ ہے کہ پورے جہان میں نکلا نہ ایک بھی شخص ہمارے مزاج کا
زندگی بھی تو پشیمان ہے یہاں لا کے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ میرے مر جانے کا
زندگی ایک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ موت سے بھی ختم جسکا سلسلہ نہیں ہوتا
حسرتیں دفن ہیں مجھ میں خود کا خود مزار ہوں میں
ہم تو سادہ سے لوگ ہیں ہم سے کیا رونق ہو گی
ہم بہت گہری اداسی کے سوا جس سے بھی ملتے ہیں کم ملتے ہیں
آج لفظوں نے بھی معافی مانگ لی ہم پے اپنے درد کا بوجھ نہ ڈالو
اے حرفِ تسلی تیرے مشکُور ہیں ، لیکن یہ خیر ہے ،کہنے سے، بہت آگے کا دُکھ ہے
فقط موت رہ گئی ہے باقی اور تو سبھی اذیتیں گزر گئیں
چھوڑ دو مجھے تنہائی میں رابطے اب عذاب لگتے ہیں