ھُوں اپنی روشنی کی , اذیت میں مبتلا
جلتا ھوا چراغ ھُوں , اوندھا پڑا ھُوں میں
موت سے کب مرنے والے تھے ہم
بول تیری زبان کے ہم کو مار گئے
مار ڈالا ہے زندگی نے تو
جان نکلے تو کچھ قرار آے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
کوئی خودکشی کی طرف چل دیا اداسی
کی محنت ٹھکانے لگی
جو ہوجائے خودکشی جائز اگر
خود کو اذیت ناک موت ماروں میں
میں ہر روز گھر کے آئینے😭😭 میں ایک ہارے ہوئے شخص کو دکھتا ہوں
سخت ازیت پسند ہوں میں
جہاں رو رو کے مر جانا چاہے
وہاں مسکرا دیتا ہوں
اِک آہ بھری ، کُچھ اَشک بہے ، اور شعر کہے 🖤
پِھر رَقص کِیا ، کُچھ دُهول اُڑی اور خاک ہوئے🔥
کل شب خدا کے ساتھ بڑی گفتگو رہی !
ڈر مت ! ترے ستم کا کہیں ذکر تک نہ تھا
آج کا دن بہت قیامت کی طرح گزرا ہے
جانے کیا بات تھی ، ہر بات پہ رونا آیا
ہماری نید پوری نہ خواب پورے ہیں
ادھورے لوگ ہیں لیکن عذاب پورے ہیں
نہیں ہے وجہ ضروری کے جب ہو تب مر جائیں
اداس لوگ ہیں ممکن ہے بے سبب مر جائیں