اپنی تصویر کو رکھ کر تیری تصویر کے ساتھ میں نے یہ عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھ جس کو میں اپنا بناتا ہوں، بچھڑ جاتا ہے میری بنتی ہی نہیں، کاتبِ تقدیر کے ساتھ
خود کو مغالطے میں رکھا ہے تمام عمر دنیا تمھارے ساتھ تو دھوکا نہیں کیا لوگوں کو جانے مجھ سے شکایت رہی ہے کیوں میں نے تو اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا🥀🖤
خاموشی بے ___ وجہ نہیں ہے سائیں کچھ درد سہا ہے کسی کی لاج رکھی ہے
خواب آنکھوں میں سجاے ہوۓ ہم معصوم سے لوگ زندہ رہنے کی تمناوں میں مر جاتے ہیں.
آج چھیڑو نہ نبھا کی باتیں آج ہم دکھ سے بھرے بیٹھے ہیں
بیٹھے ہو اب تنہا خلقت میں محسن کہا تھا نا محبت کی عطا نرالی ہوتی ہے
جی تو چاہتا ہے کبھی آگ لگا کر دل کو پھر کہیں دو ر کھڑے ہو کر تماشا دیکھوں
پرکھا بہت گیا مجھے لیکن سمجھا نہیں گیا
ہم چپکے سے دبے پاؤں تیری کہانی سے نکل جائیں گے
ہر شخص با اصول ، ہر شخص باضمیر صرف اپنی ذات تک ، ذاتی مفاد تک
جس سے افسانہ ہستی میں تھا تسلسل کبھی اس محبت کی روایت نے بھی دم توڑ دیا
ختم اپنا وجود کر جاؤں جی میں آتا ہے آج مر جاؤں
اب تو کچھ بھی نہیں رہا دل میں پہلے افسوس بھی تھا حیرت بھی
اس کی چاہت وہ کربلا ہے جہاں میری ہر آرزو شہید ہوتی ہے