نادان ہوں, نا سمجھ ہوں, بیکار ہی سمجھو دل روتا ہے, ہونٹ ہنستے ہیں, فنکار ہی سمجھو
وقت کو ساعت و تقویم سمجھنے والو وقت ہی کے تو یہ سب حشر اُٹھائے ہوئے ہیں
ہم بہت گہری اداسی کے سوا جس سے بھی ملتے ہیں کم ملتے ہیں
ایک ایسا مسئلہ درپیش ہے ہمیں کہ جسکا آخری حل خودکشی نکلتا ہے
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
لذت غم بڑھا دیجئے آپ پھر مسکرا دیجئے میرا دامن بہت صاف ہے کوئی تہمت ہی لگا دیجئے
شدید بخار، دکھتی آنکھیں، پھٹتا سر ایسا لگتا کچھ ہی دن ہیں حیات کے باقی
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
میں قہقہوں میں گِھرا ہوا لڑکا کسی دن کمرے میں مردہ ملوں گا... InshaAllah
شدید بخار,دُکھتی آنکھیں,پَھٹتا سَر تکلیف دہ پَسلیاں,اور سلگتی رُوح
میری آخری ہچکی کو ذرا غور سے سن زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہے
ختم اپنا وجود کر جاؤں جی میں آتا ہے آج مر جاؤں
لذت غم بڑھا دیجئے آپ پھر مسکرا دیجئے میرا دامن بہت صاف ہے کوئی تہمت ہی لگا دیجئے
سلگ رہا ہوں کئی دن سے اپنے ہی اندر میں اب جو لب کھولوں گا تو بہت تماشا ہو گا
اپنے لہجے پہ غور کر کے بتا لفظ کتنے ہیں، تیر کتنے ہیں