یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم عشق میں حکم عدولی بھی ہمیں آتی ہے ٹلنے والے تو نہیں ہیں ترے انکار سے ہم رنج ہر رنگ کے جھولی میں بھرے ہیں ہم نے جب بھی گزرے ہیں کسی درد کے بازار سے ہم
نہ شمشیر ہی بری تھی نہ قاتل ہی برا تھا میں خود ہی برا ہوں میری تقدیر ہی بری تھی میرے قاصد کو بھی مارا میرا نامہ بھی جلایا میں خود ہی برا ہوں میری تحریر ہی بری تھی