کسی شوخِ مجسم نے کیا یہ میرا حال
کہ زندہ ہوکے بھی میرا ہوا ہے انتقال
پہلے عشق.... اپنے سانچے میں ڈھالے گا تجھے
پھر نوچے گا چبائے گا اور مار ڈالے گا تجھے🥀
*نشاطِ آرزو ، خوابِ تمنا ، دردِ محرومی۔۔*
_محبت نے اٹھائے سب حجاب آہستہ آہستہ_
برباد کرنا تھا تو کسی اور طریقے سے کرتے
کیوں زندگی میں زندگی بن کر زندگی سے زندگی ہی چھین لی
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں
میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی وہ داستاں
جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
رفتہ رفتہ مٹاتا گیا میری ذات کو
ایک درد جو میرا تھا ہی نہیں
ہمارے شہر کی ساری آب وہوا منافق ہے
یہاں وہ پیڑ ہرے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں
خواہشوں کو معتدل رکھّا محبت نے سدا
جب جہاں چاہا وہیں دل کھول کر چھڑکا نمک
اس کے لہجے میں سمٹ آتے ہیں کیا کیا ذائقے
ہم نے کب دیکھا تھا ایسا شہد اور ایسا نمک
میں نے آنکھ کے پانی سے
مَل مَل کے دھوئے دکھ
ہزار باتوں پہ ہم اکثر یونہی خاموش ہیں رہتے
لوگ کہتے ہیں مغرور اور کبھی پاگل ہیں کہتے
یوں تو سنتے ہیں ہر روز بہت اچھے الفاظ بھی
مگر ہم لفظوں سے زیادہ لہجے ہیں سمجھتے
بات کرتے ہیں سیدھی اور زہر کی مانند
ہم باتوں باتوں میں بات نہیں بدلتے
*تو سمجھتا ہے صرف تیرے ہی غم معتبر ہیں
*تم نے دیکھا ہی کہاں ہے مجھے شام کے بعد۔۔*
دن گزر جاتا ہے اک خواب کی حسرت کرتے
رات ہوتی ہے وہی خواب بکھر جاتا ہے
پہلے عشق.... اپنے سانچے میں ڈھالے گا تجھے
پھر نوچے گا چبائے گا اور مار ڈالے گا تجھے
کچھ اداسیا ں بہت ذاتی ہوتی ہیں
ہم چاہ کر بھی کسی کو بتا نہیں سکتے
میں نے اپنے خدا پہ چھوڑ دیا
فیصلہ آستین کے سانپوں کا.
تیری جھلک سکون قلب سہی
تیری عادت نے نقصان خوب کیا
جانا ہوگا مجھے اجازت دے
خودکشی راہیں دیکھتی ہوگی !
وقتِ رُخصت کفن ہٹا کے مجھے
دیکھ لینا تُمھیں خوشی ہوگی !
کوئی ماتھے کا لکھا پڑھ سکے گا؟
میری قسمت کے پودے زرد کیوں ہیں؟
یا سینہ چاک کر کے دل سے پوچھوں
تیرے حصے میں آخر درد کیوں ہیں؟
تیری آواز سے رستا ہوا صدمہ ہیں ہم
دل کو ہلکا بھی کریں آنکھ بھی بھرتے جائیں
وہ ستاروں سے کہیں دور ہمیں چاہتا ہے
ہم زمیں زاد اسی زعم میں مرتے جائیں
قابل_____نفرت ہوں!
آئیے آپ بھی_______________کجئیے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain