اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
کیا اجازت ہے، ایک بات کہوں؟؟
وہ، مگر، خیر، کوئی بات نہیں..!!
مجھے دعائیں نہیں لگتی
کوئی میرے حق میں بددعا کرے
لگ نہ جائے داغ کہیں آپ کی پارسائی کو
جی بھر کے خراب ہوں میں ، اجتناب کیجئے"
دِل کی بَغداد میں تہزیب کا چالیسواں ہے..
مسخ تاریخ کی چیخیں ہیں میرےکانوں میں..
مِلنے آئے ہیں کئی زخَم پُرانے مُجھ کو ..
آج مصروف رہوں گا اِنہی مِہمانوں میں_
میرا غم جانتے ہیں صرف دو لوگ
آئینے میں وہ آدمی اور میں
جانا ہوگا مجھے اجازت دے
خودکشی راہیں دیکھتی ہوگی !
وقتِ رُخصت کفن ہٹا کے مجھے
دیکھ لینا تُمھیں خوشی ہوگی !
جانا ہوگا مجھے اجازت دے
خودکشی راہیں دیکھتی ہوگی !
وقتِ رُخصت کفن ہٹا کے مجھے
دیکھ لینا تُمھیں خوشی ہوگی !
آپ غسل و کفن کی تیاری کریں
میں بس __ مرنے ___ والا ہوں
إنا لله وإنا إليه راجعون
سب لکیروں نے پھیر لی آنکھیں
ہو گیا ہاتھ ، میرے ہاتھ کے ساتھ
یہ ہنستا کھیلتا لڑکا کِسی دن آہ بَھر لے گا
لکھا جائے گا تختی پر اُداسی کھا گئی اس کو
بے دلی سے ہی سہی مگر کبھی کبھی تو
وہ جو حال پوچھتے ہیں احسان کرتے ہیں
میں قہقہوں میں گِھرا ہوا لڑکا
کسی دن کمرے میں مردہ ملوں گا...
یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤنگا
اک دن میں روشنی کا نگر چھوڑ جاؤ نگا
مرنے سے پیشتر میری آواز مت چرا
میں اپنی جاۂیداد ادھر چھوڑ جاؤں گا
قاتل مرا نشان مٹانے پہ ہے بضد
میں بھی سناں کی نوک پہ سرَ چھوڑ جاؤنگا
بے موت مر جاتےہیں
بے آواز رونے والے
اے خدا بس میرے لئے
خود کشی حلال کر دے
میں قہقہوں میں گِھرا ہوا لڑکا
کسی دن کمرے میں مردہ ملوں گا...
زہر جب کارگر نہیں ہوتا
لوگ تہمت سے مار دیتے ہیں
تنقید نہ تکرار، بڑی دیر سے چپ ہیں
حیرت ہے مرے یار،بڑی دیر سے چپ ہیں
گونگوں کو تکلم کے مواقع ہیں میسّر
ہم ماہرِ گفتار بڑی دیر سے چپ ہیں
اک عجب سی جنگ ہے مجھ میں۔۔۔۔
کوی مجھ سے ہھی تنگ ہے, مجھ میں۔۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain