اک میری بات نہیں تھی سب کا درد دسمبر تھا برف کے شہر میں رہنے والا اک اک فرد دسمبر تھا پچھلے سال کے آخر میں بھی حیرت میں ہم تینوں تھے اک میں تھا، اک تنہائی تھی، اک بے درد دسمبر تھا
اس لئے بھی ہمیں دھتکار دیا جاتا ہے ہم تیرے بعد فقیروں کی طرح لگتے ہیں اس نے پھر غصہ میں رکھا نہیں لفظوں کا خیال میں نے بولا بھی تھا تیروں کی طرح لگتے ہیں