سخت ازیت پسند ہوں میں
جہاں رو رو کے مر جانا چاہے
وہاں مسکرا دیتا ہوں
روز ہوتی ہے میری میری سانسوں سے جھڑپ
روز اک سانس کو پھانسی چڑھا دیتا ہوں
میں قبلِ کن بھی اداسی کا استعارہ تھا
دمِ الست مجھے شعر میں اتارا گیا
کسی فقیر کو سکہ ملے مگر گر جائے
وہ اس طرح سے ملا اور پھر دوبارہ گیا
نہ جانے کتنی مدت سے ہے دل میں یہ عمل جاری
ذرا سی چوٹ لگتی ہے اور میں سارا ٹوٹ جاتا ہوں
کبھی خاموشی کی چینخ و پکار سننا
تمہیں صبر کی خقیقت پتا چل جائے گی
مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہیے
پوچھتے ہیں آپ..
آپ اچھے تو ہیں..!!
جی
میں اچھا ہوں
دعائیں چاہیے..
نہ جانے کتنی مدت سے ہے دل میں یہ عمل جاری
ذرا سی چوٹ لگتی ہے اور میں سارا ٹوٹ جاتا ہوں
ایسی وحشت ہے مرے دل میں کہ ہر شے توڑوں
اور پھر چیخوں کہ دیکھو ، ایسی حالت ہے میری
ایک نوخیر کلی پاؤں میں پھینکوں ، مسلُوں
اور پھر روؤں کہ سمجھو ، یہ اذیت ہے میری
ائے خدا اسکی نظروں کے سامنے میری موت ہو
اور مجھے چھونے کا حق صرف اسے نہ ہو
Bye HS
دماغ کی ساری رگیں درد کرتی ہے
ماجال ہے کوئ ایک پھٹ کے کام آسان کر دے۔۔۔