یہ اداسیاں تو میرے عہد کی علامت ہیں
میں ہنس پڑا تو بہت پیچھے لوٹ جاؤں گا
اتنا لٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میں🥀
ہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے
تم کہاں تک کرو گے دلجوئی؟
میں تو اکثر اداس رہتا ہوں. ✍⭐
ہمیشہ مجھ کو عید سے یہی پیغام ملتا ہے
کو ئی قر بان ہو تا ہے کسی کی عید ہو تی ہے۔
ہم کہ معمور ہیں دنیاؤں کی دلجوئی پر
ہم کسے جا کہ بتائیں جو ہمارا دکھ ہے
ہے کوئی اور مرے بعد تری دنیا میں .. ؟
میری دنیا میں ترے بعد دوبارہ دکھ ہے
شرمنده ہوں کہ موت بهی آتی نہیں مجهے
اب تم ہی میرے حق میں کوئی بدعا کرو
دل کی حالت بھی دکھا نہیں سکتا
کیا ہے مسائل یہ بتا نہیں سکتا
ہاں ہاں مانا کہ عید کے ہیں یہ دن
پر اسکے بنا کچھ منا نہیں سکتا
نیا سوٹ نئی جوتی سب ہے پر یار
اسکے بن خود کو سجا نہیں سکتا
جانتا ہوں وہ نہیں آۓ گا واپس پر
یہ بات دل کو سمجھا نہیں سکتا
وہ ہے آگ وہ پانی ہے
سب کی ایک کہانی ہے
گھر کا نقشہ ہے تیار
اب زنجیر بنانی ہے
میرے گھر کا سناٹا
میری ہی بے دھیانی ہے
ہر اداس شخص کو
عشق کا مسئلہ نہیں ہوتا...
دل پریشان ہوا جاتا ہے
اور سامان ہوا جاتا ہے
موت سے پہلے مجھے قتل کرو
اس کا احسان ہوا جاتا ہے
چھائی جاتی ہے یہ وحشت کیسی
گھر بیابان ہوا جاتا ہے
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی
اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سے
میرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی
اپنے اندر کہیں دفنا کے ___محبت اپنی
مجھ کو اچھا لگا احساس کا ماتم کرنا. ✍
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں
پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
یہ زندگی جو پکارے تو شک سا ہوتا ہے
کہیں ابھی تو مجھے خود کشی نہیں کرنی
تمہیں ہے رشک ، میرے اردگرد لوگوں پر
ہمیں یہ دکھ کہ کوئی ایک بھی ہمارا نہیں
بچھڑتے وقت تو آواز بیٹھ جاتی ہے
اسے لگا تھا کہ میں نے اسے پکارا نہیں۔۔