پھر اُس کے بعد راستہ خُوشبو میں کٹ گیا۔۔۔!!
کُچھ وقت اُس کے ساتھ گُزارا تھا اور بس۔۔۔!!
وہ مُضْطَرِب کہ عِشق میں نقصان ہی نہ ہو۔۔۔!!
ہم مُطْمَئِن کہ جاں کا خسارہ تھا اور بَس
یہ خدّ و خال ضعِیفی کی غمزدہ آنکھیں
بہت اُداس کیا تو نے______آںٔینے مُجھ کو
ہم نے فریبِ یار میں سو بار اپنا آپ
برباد کر کے پھر سے سنوارا ! کہ اب نہیں ۔
ہم سےنہ پوچھ تو اس دنیا کے ستم تیرے جانے کے بعد
تیرے نام سے بھی اذیت دی لوگوں نے
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول
ترک الفت کے دشت سے چن کر
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول
تیری دہلیز پر سجا آئے
پھر تری یاد پر چڑھا آئے
باندھ کر آرزو کے پلے میں
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
کوئی پوچھے , ذرا ان سے ...!
کہ دل جب , مر گیا ہو تو
کیا تدفین لازم ہے ...! 🥀
محلے کی , کسی مسجد میں
کیا اعلان , واجب ہے ...!
کوئی پوچھے , ذرا ان سے
محبت ... چھوڑ دینے پر
دلوں کو ... توڑ دینے پر
کوئی فتویٰ نہیں لگتا ...!!!
نصیب میں لکھی گئی اذیتیں
سے بغیر ہم مر نہیں سکتے۔
اور بڑھ جاتی ہے بھولی ہوئی یادوں کی کسک
عید کا دن تو فقط زخم ہرے کرتا ہے۔
جسے تہجدوں میں مانگا تھا کبھی
اسے طاق راتوں میں بھلانے کی دعا کی ہے
کوئی پوچھے , ذرا ان سے ...!
کہ دل جب , مر گیا ہو تو
کیا تدفین لازم ہے ...!
محلے کی , کسی مسجد میں
کیا اعلان , واجب ہے ...!
کوئی پوچھے , ذرا ان سے
محبت ... چھوڑ دینے پر
دلوں کو ... توڑ دینے پر
کوئی فتویٰ نہیں لگتا ...!!!
میرے احباب مُجھے لُوٹ کے نِکلے ہیں ابھی
میرے دشمن تُجھے اس بار بھی تاخیر ہوئی
تغافل ٹھیک ہے، رنجش بجا لیکن جناب من!!
دل اتنا نہ دکھائیں کہ خدا تک بات جا پہنچے
میری سرکشی بھی تھی منفرد، میری عاجزی بھی کمال تھی
میں انا پرست بلا کا تھا، سوگرا تو اپنے ہی پاؤں میں ...!
Aj ajeeb becahini he aj dil bhot udas he ...aj lagta jese mout ka din hu..kaleja phtne ko horhaa
سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاری
کہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیں
ڈھونڈتے رہ جاؤ گے
قبر پر تختی بھی نہیں لگواؤں گا
مسلسل سوچ کی چوٹوں سے دیکھو !
یہ میرا جسم چھلنی ھو گیا ھے !
وہ جہاں آنکھ سے ہوا اوجھل
بس وہیں رہ گیا ہے دھیان میرا
اہل ء دل ، دل کی نزاکت سے ہیں واقف ورنہ
کام لفظوں سے بھی لے سکتے ہیں خنجر جیسا
میری وسعت کا بھی اندازہ بہت مشکل ہے
ایک قطرہ ہی سہی ، ہوں تو سمندر جیسا
میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے کہ جو بنتا نہیں پتھر جیسا
ہاتھ زخمی ہوئے تو کچھ اپنی بھی غلطیاں تھی
لکیروں کو مٹانے چلے تھے کسی کو پانے کے لیے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain