خدا وہ دن نہ دکھائے کہ میں کسی سے سُنوں کہ تُو نے بھی غمِ دنیا سے ہار مانی ہے زمیں پہ رہ کے ستارے شکار کرتے ہیں مزاج اہلِ مَحبّت کا آسمانی ہے!! ہمیں عزیز ہو کیونکر نہ شامِ غم کہ یہی بچھڑنے والے ' تیری آخری نشانی ہے
کیا بگڑ جاتا چلے آتے قضا سے پہلے مرتے دم تک تیرے بیمار نے رستہ دیکھا😢
اپنا غم سنانے کو جب نہ ملا کوئی تو رکھ دیا آئینہ سامنے اور خود کو رولا دیا
کبھی خاموشی کی چینخ و پکار سننا تمہیں صبر کی خقیقت پتا چل جائے گی
میری سمجھ سے با ہر ہے میرے اندر بیٹھا ہوا شخص۔
کسی روز یہ ہجر اپنی انتہا کو پنچے گا کسی شب ہم لہو میں لت پت ملیں گے
شرمنده ہوں کہ موت بهی آتی نہیں مجهے اب تم ہی میرے حق میں کوئی بدعا کرو
ہم نے نکلتے دیکھے ہیں جنازے ارمانوں کے ہم نے کھلے عام دفنایا ہے اپنی خواہشوں کو
چلا گیا تو کبھی لوٹ کے نہیں آوں گا اس قدر نہ ستاو بہت اداس ہوں آج کلm
شرمنده ہوں کہ موت بهی آتی نہیں مجهے اب تم ہی میرے حق میں کوئی بدعا کرو
تمام دن میرے سینے میں جنگ کرتا ہے وہ شخص جس کے مقدر میں خود کشی بھی نہیں
خود کشی قتل انا ترک تمنا بیراگ زندگی تیرے نظر آنے لگے حل کتنے